مضامین بشیر (جلد 3) — Page 5
مضامین بشیر جلد سوم ما 5 کے ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ جاننی چاہئے کہ امصلح کا کام جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اصلاح کرنا ہے اور اصلاح کے دو مخصوص اور ممتاز میدان ہیں جن کی طرف دنیا کے ہر مصلح اور ہر امام اور ہر رسول کی توجہ رہی ہے۔کیونکہ ان کے بغیر کوئی اصلاحی پروگرام مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔اول۔غیروں میں تبلیغ اور دوم، اپنوں کی تربیت۔غیروں میں تبلیغ سے یہ مراد ہے کہ جس صداقت کو لے کر کوئی جماعت اٹھتی ہے اسے دوسروں تک پہنچانا اور انہیں اپنے عقائد اور خیالات کا قائل کرنا۔اور اپنوں کی تربیت سے یہ مراد ہے کہ جولوگ ہماری تبلیغ کو قبول کر کے الہبی جماعت میں شامل ہو جائیں۔انہیں اس صداقت کی علمی اور عملی تفسیر پر پوری طرح قائم کر دینا اور قائم رکھنا۔یہ وہ دو اصلاحی کام ہیں جو ہر صلح کے مشن کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔اور اخبارالمصلح بھی جو ایک مصلح ربانی کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔اس قاعدہ کلیہ سے مستقلی نہیں ہوسکتا۔قرآن شریف میں اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ (البقره: 130) یعنی یہ رسول (جو ابراہیم اور اسمعیل علیہم السلام کی دعا کے مطابق مبعوث کیا گیا ) لوگوں کو خدائی احکام کی تعلیم دیتا اور ان کی حکمت سمجھا تا اور انہیں اس کے ذریعہ پاک کرتا ہے۔اس آیت میں کتاب اور حکمت کی تعلیم دینے کا کام تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے اور پاک کرنے کا کام تربیت سے متعلق ہے۔یعنی غیروں اور منکروں کو اپنے عقائد بتا کر ان کی حکمت سمجھائی جائے اور پھر جو لوگ مان لیں یا ماننے والوں کی آگے نسل پیدا ہو۔ان کی زندگیوں کو اس کتاب و حکمت کے ذریعہ پاک کیا جائے۔یہ وہ کام تھا۔جو ہمارے آقا ( فرانہ نفسی) صلے اللہ علیہ وسلم نے سرانجام دیا۔اور یہی وہ مقدس فریضہ ہے جو آپ کے ہر بچے متبع اور ہر مخلص خادم پر عائد ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ ہر الہی جماعت کے وجود کے یہی دو حصے ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک حصہ کو نظر انداز کرنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جماعت کے آدھے دھڑ“ کو مفلوج کر دیا جائے۔جس کے بعد یقیناً دوسرا نصف حصہ بھی ماؤف ہو کر جلد ختم ہو جائے گا۔اگر جماعت میں بیرونی تبلیغ نہیں ہوگی تو جماعت کی ترقی بالکل رک جائے گی اور اس کے ساتھ ہی اس توجہ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جو ہرایسی جماعت کی طرف دوسرے لوگوں کو ہوا کرتی ہے۔اور اگر جماعت کی اندرونی تربیت کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی تو دوسرے لوگوں کے مقابل پر جماعت کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا اور ایک علیحدہ جماعت کا بنانا قطعاً بے سود ہوگا۔یہ دونوں نہریں جن کے باطنی چشمے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے اور ایک دوسرے کو مدد