مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 244 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 244

مضامین بشیر جلد سوم 244 انتظام کی وجہ سے امام مسجد کے اکرام اور احترام میں فرق پیدا ہو رہا ہے۔اور وہ اس طرح کہ جو نہی کہ نماز کا مقررہ وقت آتا ہے اور گھڑی کی سوئی پونے ایک بجے یا چار بجے پر پہنچتی ہے تو مقررہ امام کا انتظار کرنے کے بغیر بلا توقف کسی اور حاضر الوقت بزرگ کو پیش امام بنا کر نماز شروع کر دی جاتی ہے۔یہ بات مقررہ امام کے اکرام کو کم کرنے والی اور اس کے احترام کے خلاف ہے کہ چند منٹ کے لئے بھی اس کا انتظار نہ کیا جائے۔بے شک نماز کے متعلق قرآن مجید میں كِتاباً موقوتاً کے الفاظ آتے ہیں۔مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز کسی معین منٹ پر ادا ہونی چاہئے اور کسی صورت میں بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہونی چاہئے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے اول اور آخر وقت مقرر کر دیا گیا ہے اور ان دو وقتوں کے درمیان نماز ادا ہونی ضروری ہے۔بہر حال اسلام نے امام کا جو اکرام مقرر کیا ہے (جس کی ادنیٰ مثال یہ ہے کہ اگر امام نماز میں سہواً کوئی غلطی بھی کر جائے اور توجہ دلانے پر بھی اسے اپنی غلطی کا احساس نہ ہو تو مقتدیوں کو اس غلطی کا علم ہونے کے باوجود امام کی اتباع کرنی پڑتی ہے ) اس اکرام کا تقاضا ہے کہ امام کا اکرام ملحوظ رکھا جائے اور صرف چند منٹ کے انتظار کی وجہ سے اس اکرام میں رخنہ پیدا کرنا کسی طرح مناسب نہیں۔آخر ہمارے دوست مسجد مبارک ربوہ میں حضرت صاحب کے لئے جبکہ حضور کسی اہم دینی کام میں مصروف ہوتے ہیں بعض اوقات لمبا لمبا وقت انتظار کرتے ہیں۔تو اگر کسی وقت کسی دوسرے مقررہ امام کے لئے صرف چند منٹ انتظار کر لیا جائے۔تو یقیناً اس میں کوئی ہرج نہیں۔بلکہ یہ امر اسلام کی عمومی روح کے عین مطابق ہے۔اور پھر وہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ مختلف گھڑیوں کے وقت میں بھی چند منٹ کا فرق ہو جایا کرتا ہے۔لہذا میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ربوہ کی مساجد میں نمازوں کا وقت مقرر ہونے کا یہ مطلب نہیں سمجھا جائے گا کہ جو نہی کہ مقررہ منٹ آئے امام کا انتظار کرنے کے بغیر بلا توقف کسی اور دوست کو آگے کر کے نماز شروع کرا دی جائے۔بلکہ مناسب وقت مثلاً چار پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد نماز شروع کرانی چاہئے۔ہاں اگر زیادہ دیر ہو جائے تو پھر بے شک نماز کرا دینے میں ہرج نہیں۔کیونکہ دوسری طرف یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ اس زمانہ میں لوگوں کی مصروفیت اور خصوصاً ملازم پیشہ اصحاب کے اوقات زیادہ لمبے انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ زیادہ انتظار کی وجہ سے لوگ باجماعت نماز میں سستی نہ