مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 243 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 243

مضامین بشیر جلد سوم 243 معتد بہ تعداد اور مناسب عملہ کو ساتھ لے جانے کا خیال آنا ایک طبعی امر ہے اور اب تو ابتدائی تجویز شدہ تعداد میں آخری نظر ثانی کے وقت کافی کمی بھی کی جارہی ہے۔بہر حال اس قسم کے سفر کو جو خالصتاً علاج اور صحت کی غرض سے اختیار کیا جا رہا ہے بے بنیاد افواہوں کا نشانہ بنانا اس گندی ذہنیت کا مظہر ہے جو بدقسمتی سے ملک کے ایک طبقہ میں ہمارے متعلق پائی جاتی ہے۔مگر یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ خدا کے فضل سے ملک کا شریف اور سمجھدار طبقہ اس قسم کے خلاف اخلاق رجحانات سے پاک ہے اور بعض عقائد میں اختلاف کے باوجود ہمارے ساتھ انصاف اور ہمدردی کا رویہ رکھتا ہے۔چنانچہ موجودہ بیماری میں بھی کثیر التعداد غیر احمدی اصحاب نے حضرت صاحب کی عیادت میں حصہ لیتے ہوئے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور ہمارا اور سب ہی خواہان ملک وملت کا حافظ و ناصر ہو۔آمین ( محررہ 3 اپریل 1955 ء) روزنامه الفضل 5 اپریل 1955ء) مساجد کے اماموں کا واجبی اکرام ہونا چاہئے نماز کے متعلق "كتاباً موقوتاً کے حکم کی ضروری تشریح میں نے ربوہ کی مساجد میں مقررہ اماموں کے اکرام کے خلاف ایک رجحان نوٹ کر کے ربوہ میں ایک مقامی مشورہ جاری کیا ہے۔چونکہ اسی قسم کا نقص بعض بیرونی مقامات میں بھی پیدا ہورہا ہوگا۔اس لئے یہ ہدایت الفضل میں بھی شائع کرائی جارہی ہے تا بیرون جات کے دوست بھی اس مشورہ سے فائدہ اٹھا سکیں۔وَكَانَ اللهُ مَعَنَا أَجْمَعِينَ - خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ 1955-4-4) بخدمت محترم ناظر صاحب تعلیم و تربیت و جنرل پریذیڈنٹ صاحب وائمہ بیوت ربوہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ چونکہ اس زمانہ کی مصروفیات کے پیش نظر کچھ عرصہ سے ربوہ کی مساجد میں نمازوں کا وقت معین صورت میں مقرر کر دیا گیا ہے۔مثلاً یہ کہ ظہر کی نماز پونے ایک بجے ہو۔اور عصر کی نماز چار بجے ہو۔وغیرہ ذالک۔اس لئے اس تعین کے نتیجہ میں ایک ایسی خرابی پیدا ہورہی ہے جسے گویا دوسری انتہا کی خرابی کہنا چاہئے یعنی اس