مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 239 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 239

مضامین بشیر جلد سوم 239 کی نماز جنازہ باغ کے شمالی حصہ ( مملوکہ اخویم حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم ) میں کنوئیں کے قریب ہوئی تھی مگر پہلی بیعت خلافت کے متعلق شہادتوں میں اختلاف ہے۔بعض احباب کا خیال ہے کہ بیعت خلافت بھی جنازہ والی جگہ میں ہی ہوئی تھی۔مگر دوسرے اصحاب کا خیال ہے کہ بیعت خلافت جنازہ والی جگہ میں نہیں ہوئی۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے حصہ باغ میں پختہ چبوترہ والی جگہ کے سامنے ہوئی تھی۔اور میں نے اس نوٹ میں لکھا تھا کہ غالب رجحان موخر الذکر خیال کی طرف ظاہر ہوتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ چونکہ یہ ایک تاریخی سوال ہے اس لئے اگر کسی دوست کی رائے اس کے خلاف ہو تو وہ اس کے متعلق بخوشی لکھ سکتے ہیں۔چنانچہ اس تعلق میں ذیل کا مضمون حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی طرف سے موصول ہوا ہے۔جو الفضل میں شائع کیا جاتا ہے۔اگر اس معاملہ میں کوئی اور دوست اپنی چشم دید شہادت اور پختہ یادداشت کی بناء پر اس تاریخی سوال پر مزید روشنی ڈال سکتے ہوں تو ان کے لئے بھی یہ رستہ کھلا ہے۔اس تعلق پر مجھے حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم کی خود نوشتہ ڈائری میں سے بھی ایک نوٹ ملا ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازہ اور بیعت خلافت کے دن یعنی 27 مئی 1908ء کا لکھا ہوا ہے اور حال ہی میں ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کی تصنیف اصحاب احمد میں شائع ہوا ہے۔ممکن ہے کہ اس نوٹ سے بھی جو عین اُس وقت اور اس موقع کی تحریر شدہ شہادت ہے اس معاملہ میں کچھ روشنی پڑ سکے اور بالواسطہ طور پر کچھ کام آ سکے۔حضرت نواب صاحب اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں۔حضرت مولانا ( نور الدین صاحب کے ) ہاتھ پر ہم نے معہ فرزندان ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) و میر (ناصر نواب صاحب قریب بارہ سو آدمی نے باغ کے درختوں کے نیچے بیعت کی۔اس کے بعد ہم سب واپس آئے اور کھانا کھایا اور پھر نماز ظہر پڑھ کر تمام لوگ باغ میں جمع ہوئے اور نماز عصر پڑھ کر جنازہ پڑھایا گیا۔اور پھر حضرت مولانا نے ایک خطبہ پڑھا۔بیعت کے وقت اور خطبہ کے وقت عجیب نظارہ تھا کوئی آنکھ نہ تھی جو پر نم نہ تھی ( اصحاب احمد جلد دوم صفحہ 608 شائع کردہ مجلس انصاراللہ پاکستان۔۔۔(اس کے بعد حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا مضمون درج ہے شوق رکھنے والے دوست الفضل 23 فروری 1955 ء پر دیکھ سکتے ہیں ) (محررہ 17 فروری 1955ء) (روز نامه الفضل 23 فروری 1955ء)