مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 222 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 222

مضامین بشیر جلد سوم 222 دوست دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جن نمازیوں کے متعلق او پر والا فتویٰ دیا ہے وہ اس قسم کے نمازیوں میں داخل ہیں؟ اگر نہیں اور ہر گز نہیں۔تو وہ خودسوچ لیں کہ ان کا یہ فتویٰ سچے نمازیوں پر عائد نہیں ہوتا بلکہ بے نماز ، نمازیوں پر عائد ہوتا ہے جو ظاہر میں نماز پڑھتے ہوئے بھی حقیقتا بے نماز ہوتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے جو تا ثیر نماز کی بیان کی ہے کہ انَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَر (العنكبوت : 46 وہ حقیقی نماز کی ہے نہ کہ بے جان اور مُردہ نماز کی۔اسی لئے قرآن مجید نے جس کا ہر ہر لفظ حکمت سے معمور ہے حقیقی نماز ادا کرنے والوں کے لئے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ ( یعنی وہ جو نماز کو کھڑا کرتے ہیں ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔اور يُصَلُّونَ کا لفظ استعمال نہیں کیا جس کے معنی صرف نماز کی ظاہری صورت پورا کر دینے کے ہیں اور بس۔عام محاورہ سے قرآن مجید کا یہ انحراف اسی لطیف غرض سے کیا گیا ہے کہ تا اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ نتیجہ خیز اور فائدہ بخش بات صرف وہی ہے جو اپنے پورے لوازمات کے ساتھ دل ودماغ کی کامل توجہ سے ادا کی جائے۔پھر ہمارے دوستوں کو یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ نماز کا اثر ایک دوائی کے اثر کی طرح ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ نے دنیا کی مادی دوائیوں میں مختلف قسم کی تاثیریں رکھی ہیں۔کوئی ملیریا کے جراثیم کو مارتی ہے۔اور کوئی سل کے جراثیم کو ہلاک کرتی ہے۔اور کوئی ٹائیفائیڈ کے جراثیم کے لئے مہلک ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح روحانی بیماریوں کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے کئی قسم کی روحانی دوائیاں تجویز کر کے ان میں مختلف قسم کی روحانی تاثیر میں ودیعت کر رکھی ہیں۔انہی روحانی علاجوں میں سے ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی دوائی نماز ہے۔جو انسان کے نفس کو پاک وصاف کر کے خدائے سبوح وقدوس کے ساتھ اس کا پیوند جوڑنے میں گویا اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔مگر جس طرح ہر مادی دوائی کے ساتھ خدا کی یہ از لی شرط لگی ہوئی ہے کہ اس کا فائدہ تبھی حاصل ہوتا ہے کہ جب دوائی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ضروری پر ہیز کا بھی التزام کیا جائے۔اسی طرح روحانی دوائیوں کے ساتھ بھی اسی قسم کی شرائط لگی ہوئی ہیں مثلاً مادی میدان میں ملیریا کے علاج کے لئے کو نین ایک نہایت مؤثر دوائی مانی گئی ہے اور ملیریا کے جراثیم کو مارنے میں اس کا استعمال گویا تیر بہدف کا حکم رکھتا ہے لیکن اگر کوئی شخص ایک طرف تو کونین کا استعمال کرے اور دوسری طرف پانی کے کسی گندے ذخیرہ کے پاس ڈیرہ ڈال کر مچھروں کے ذریعہ ملیریا کے جراثیم بھی اپنے جسم میں بے تحاشا پیدا کرتا چلا جائے اور مسہری وغیرہ کا بھی کوئی انتظام نہ ہو اور نہ کوئی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو ظاہر ہے کہ کونین کے استعمال کے باوجود ایسا شخص بدستور ملیریا کا شکار رہے گا۔اور اس کی مثال ایسی ہوگی کہ اس نے ایک صاف ستھرا