مضامین بشیر (جلد 3) — Page 218
مضامین بشیر جلد سوم 218 اسلامی نظریہ ہی یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر دعا لازماً اپنی ظاہری صورت میں قبول ہو تو پھر اعتراض کیسا؟ اور عقلاً بھی یہی بات صحیح ثابت ہوتی ہے کہ ہر دعا کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ وہ لازما قبول کر لی جائے، کیونکہ اگر ایسا ہو تو خدا اپنی مخلوق کا آقا اور مالک اور حاکم نہیں رہتا۔بلکہ نَعُوذُ بِاللهِ ان کا محکوم اور ملوک اور مطیع بن جاتا ہے کہ جو بات بھی بندے کے منہ سے نکلے اسے وہ قبول کرنے پر مجبور ہو۔اور اگر یہ کہا جائے کہ قرآن مجید خود فرماتا ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن (61) یعنی مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔تو اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہر دعا لازماً اپنی ظاہری صورت میں قبول ہوتی ہے۔بلکہ یہ ایک عمومی ارشاد ہے جس میں صرف اس اصولی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مومنوں کی دعائیں بے سود نہیں جاتیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی سنت کے مطابق قبول کیا کرتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ آیا اللہ تعالی لازماً ساری دعاؤں کو قبول کرتا ہے یا کہ بعض دعا ئیں رڈ بھی کر دی جاتی ہیں۔اور پھر یہ کہ آیا اللہ تعالیٰ ضرور ہر دعا کو لازماً اس کی ظاہری صورت میں ہی قبول کرتا ہے یا کہ دعاؤں کی قبولیت کے مختلف پہلو مقرر ہیں۔یعنی کوئی دعا ظاہری صورت میں قبول ہوتی ہے اور کوئی ظاہری صورت سے ہٹ کر کسی اور صورت میں قبول کی جاتی ہے۔سوان تمام باتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض اصول مقرر کر رکھے ہیں۔جو قرآن مجید اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔جن میں سے بعض کی طرف ذیل کے مختصر نوٹ میں اشارہ کر دیا گیا ہے۔اور بعض اصول اس خاکسار کی تصنیف سیرۃ خاتم النبین حصہ سوم کے متعلقہ ابواب میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو اس تعلق میں یہ یاد رکھنی چاہئے کہ جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے پتہ چلتا ہے ہر دعا لا ز ما قبول نہیں ہوا کرتی بلکہ بعض دعا ئیں رڈ بھی کر دی جاتی ہیں۔مثلاً قرآن مجید اور حدیث سے ثابت ہے کہ غافل انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔جو محض رسم اور عادت کے طور پر دعا کرتا ہے۔مگر ویسے دعا کی روح سے غافل رہتا ہے۔ناشکر گزار انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی جو خدا کی سابقہ نعمتوں کے متعلق تو ناشکری کرتا ہے مگر آئندہ نعمتوں کا متمنی رہتا ہے۔بے صبرے انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی جو کچھ وقت تک دعا کرنے کے بعد بے صبر ہو کر کہنا شروع کر دیتا ہے کہ بہت دعا کر کے دیکھ لیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اسی طرح ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی جس کا قبول کرنا خدا کی کسی سنت یا اس کے کسی وعدہ کے خلاف ہو۔دعا میں بے صبری کے متعلق تو بعض بزرگوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ ہم نے بعض معاملات میں ہیں ہیں سال تک مسلسل دعا کی ہے اور عدم قبولیت کے باوجود صبر و ثبات