مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 204 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 204

مضامین بشیر جلد سوم 204 کیونکہ انہیں نئی شریعت کے قیام اور اجراء کے لئے نبوت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی عطا کی جاتی ہے جس کے بغیر کسی نئی شریعت کا اجراء ممکن نہیں ہوتا۔ایسے انبیاء مسائل دینی اور حکمت اور روحانی تعلیم و تلقین میں معلم ہونے کے علاوہ اپنی قوم کے سیاسی حاکم بھی ہوتے ہیں اور مجرموں اور قانون شکنوں کے لئے سزا اور تعزیر کے قوانین بنانے اور سزائیں دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔اور انہیں اپنی زندگی میں حالات کے ماتحت اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگیں بھی کرنی پڑتی ہیں۔اور عام حالات میں ان کی پالیسی نصیحت اور سزا کے اصول پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر جمالی مصلح جو صرف کسی سابقہ شریعت کی خدمت کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں انہیں ابتداء میں سیاست عطا نہیں کی جاتی۔بلکہ وہ امن کے ماحول میں دلائل و براہین اور روحانی نشانات کے ذریعہ نرمی کے طریق پر کام کرتے ہیں۔اور عام حالات میں ان کی پالیسی نصیحت اور عفو کے اصول پر مبنی ہوتی ہے۔جیسا کہ موسوی سلسلہ میں حضرت مسیح ناصری بانی مسیحیت اور محمدی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود بانی احمدیت کا طریق کار نظر آتا ہے۔جلال اور جمال میں ترقی کا اصولی فرق جلالی نبیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ بجلی کی سی چمک اور گرج کے ساتھ آتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا پر چھا جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اپنی محدود زندگی کے اندر اندر اپنی لائی ہوئی شریعت کو قائم اور جاری کر دیں۔مگر جمالی مصلح ایک نرم اور نازک کونپل کی طرح نکلتے ہیں جو آہستہ آہستہ بڑھتی اور درجہ بدرجہ کو نیل سے پودا اور پودے سے پیڑ اور پیڑ سے ایک عظیم الشان درخت بن جاتی ہے۔چنانچہ اس کی مثال میں قرآن مجید فرماتا ہے کہ۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةً أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ۔۔۔۔ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْأَهُ فَازَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ (الفتح:30) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو صحابی آپ کے ساتھ ہیں وہ اپنی جلالی شان میں کفار کے خلاف تو ایک سخت پتھر کی طرح ہیں جو جس پر گرتا ہے اسے توڑ کر رکھ دیتا ہے مگر آپس میں وہ بہت نرم دل اور رحیم ہیں۔ان کی یہ تمثیل تو رات کے بیان کے مطابق ہے لیکن انجیل کی تمثیل کی رو سے وہ ایک کو نیل کی طرح ہیں۔جو اپنی نرم نرم پیتیاں نکالتی ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ مضبوط ہونی شروع ہوتی ہے اور درجہ بدرجہ موٹی ہوتی جاتی ہے اور پھر اپنے تنے پر کھڑی ہو کر قائم ہو جاتی ہے۔اس کا یہ نشو ونما اس کے کاشت کرنے والوں کا