مضامین بشیر (جلد 3) — Page 198
مضامین بشیر جلد سوم 198 اسلام نے آخری زمانہ میں اپنی فتح اور کامیابی کی جو پیشگوئی کی تھی۔وہ ایک خوش عقیدگی کا نعرہ نہیں تھا جو مقابل کی طاقتوں کو نظر انداز کر کے یونہی اندھیرے میں لگا دیا گیا۔بلکہ اسلام نے تمام مقدر خطرات بیان کرنے اور امت کو چوکس اور ہوشیار کرنے کے بعد یہ پیشگوئی فرمائی تھی۔حضرت مسیح موعود کے خدشات اور بلند مقامِ امید یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے کہ آپ نے بھی اپنے مقابل کے خطرات کو پوری طرح محسوس کیا اور اپنی جماعت کو ان خطرات کے متعلق اندھیرے میں نہیں رکھا۔بلکہ علی الاعلان ان کا اظہار فرمایا۔چنانچہ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں ؎ جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یا رب سخت ہے یہ کاروبار جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان ) سے میں غریب اور ہے مقابل پہ حریف نامدار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 149) مگر اس خطر ناک جنگ سے آپ کا دل گھبرایا نہیں اور مایوس نہیں ہوا بلکہ آپ اپنے مقابل کی طاقتوں کو للکار کر فرماتے ہیں کہ مجھے کمزور نہ جانو۔کیونکہ میں خدا کا ایک شیر ہوں اور میرے پیچھے ایک ایسی ہستی کا ہاتھ ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت ایک لومڑی کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔چنانچہ اسی نظم میں آگے چل کر فرماتے ہیں۔مجھ کو پردے میں نظر آتا ہے میرا اک معین تیغ کو کھینچے ہوئے اس پر جو کرتا ہے وہ وار دشمن غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار جو خدا کا اسے للکارنا اچھا نہیں ہے ہاتھ شیروں پہ نہ ڈال اے روبہ زار و نزار (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131) حاشیہ (1)۔جب 1905 ء میں روس اور جاپان کی جنگ ہوئی۔تو اس وقت روس کے مقابل پر جاپان کی ایسی حالت تھی جیسے کہ ایک بڑے پہاڑ کے مقابلہ پر ایک چھوٹا سا ٹیلہ ہوتا ہے۔