مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 194 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 194

مضامین بشیر جلد سوم 194 گی۔اول تو مسلمان دنیا کی مسیحی اور دہریہ اقوام کے مقابل پر بالکل ضعیف و ناتواں ہیں۔اور پھر مسلمانوں میں سے احمدی تو گویا آٹے میں نمک کی حیثیت بھی نہیں رکھتے تو پھر ان حالات میں یہ بیل منڈھے کیسے چڑھے گی اور ایک پڑی اپنے مقابل کے قوی ہیکل د یو پر غلبہ کس طرح پائے گی ؟ یورپ اور امریکہ کی علمی ترقی اور سائنس اور فلسفہ کا زور اور مادیت کا اوج و کمال اور سیم وزر کی فراوانی اور فوجی ساز وسامان کا معراج اور دوسری طرف اشترا کی طاقتوں کا بحر مواج، یہ وہ ہمت شکن نظارے ہیں جن سے مرعوب ہو کر بعض اوقات بعض مخلص مومن بھی متی نَصْرُ الله کے رنگ میں گھبراہٹ کا اظہار کرنے لگ جاتے ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے ان دوستوں نے بھی اسی رنگ میں یہ سوال کئے ہوں گے۔جس وقت مجھ سے یہ سوال کئے گئے اس وقت میں نے اپنی طاقت کے مطابق ان سوالوں کا مختصر اور مجمل سا جواب دے کر اپنے دوستوں کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن نہ تو اس وقت میری ایسی حالت تھی کہ زیادہ مفصل جواب دے سکتا۔اور نہ میرے یہ عزیز دوست میری بیماری اور کمزوری کی وجہ سے اپنے اس سوال کا زیادہ پیچھا کر سکتے تھے۔اس لئے سرسری سی گفتگو کے بعد جو زیادہ تر ایمان بالغیب کا رنگ رکھتی تھی یہ سوال و جواب ختم ہو جا تا رہا۔اور میں نے لطیفہ کے طور پر یہ بات بھی اپنے دوستوں سے کہہ دی کہ بے شک آپ کو یہ سوالات موجودہ وقت میں پریشان کرتے ہوں گے۔بلکہ ظاہری حالات واقعی پریشان کن ہیں۔مگر حق یہ ہے کہ مجھے تو بچپن سے آج تک کسی دجالی طلسم یا کسی مادی طاقت نے مرعوب نہیں کیا۔اور میں ہمیشہ نہ صرف کامل ایمان کے ساتھ بلکہ کامل بصیرت کے ساتھ بھی صداقت کی آخری فتح کا یقین رکھتا رہا ہوں۔مگر یہ بات میری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں ہے (ورنہ من آنم کہ من دانم ) بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دردمندانہ دعا کی وجہ سے ہے جو حضور نے آج سے پچپن سال پہلے اپنے محر وسالہ بچوں کے لئے فرمائی کہ۔نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال پس میرے دل پر تو خدا کے فضل سے کبھی ایسی دجالی طاقت یا مخالفانہ علمی مظاہرہ کا رعب نہیں پڑا۔لیکن چونکہ یہ سوال کئی اور نو جوانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہوگا اور وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوکر احمدیت کے آخری اور عالمگیر غلبہ سے متعلق ہراساں ہوتے ہوں گے۔اور خصوصاً یہ خیال انہیں زیادہ پریشان کرتا ہوگا کہ اسلام نے تو تمہیں چالیس سال کے قلیل عرصہ کے اندر اندر اس وقت کی تمام معلوم اور مہذب دنیا کے ایک تہائی حصہ پر غلبہ پالیا۔اور دنیا کی طاقتوں میں صف اول پر آ گیا مگر اس کے بعد احمدیت جو اسلام کے دور ثانی میں اس کے احیاء اور اس کے دائمی اور عالمگیر غلبہ کی علمبردار ہونے کی مدعی ہے۔وہ قریباً ستر سال گزرنے پر بھی ابھی