مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 190 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 190

مضامین بشیر جلد سوم 190 تیسری امکانی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بعض اوقات نیک لوگوں کی خوابوں میں بھی نفسانی یا شیطانی دخل ہو جاتا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ انبیاء یا خاص اولیاء کو الگ رکھ کر باقی سب لوگوں کی خوابوں میں کم و بیش نفسانی یا شیطانی دخل کا امکان ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی مشہور تصنیف ازالہ اوہام (صفحہ 107 ) میں استخاروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض اوقات جب کوئی شخص ایک خاص خیال دل میں جما کر استخارہ کرتا ہے۔تو اس کی خواب یا الہام میں اس کے نفس کا اثر داخل ہو جاتا ہے اور اس قسم کے اثر سے انبیاء اور محدثین کے سوا باقی سب لوگوں کے مکاشفات متاثر ہو سکتے ہیں۔میری یہ مراد ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ باقی سب صلحاء کے الہام یا رویا مشکوک ہوتے ہیں۔حَاشَا وَ كَلَّا۔بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ بے شک ان کے اکثر الہامات اور خواہیں رحمانی ہوتی ہیں۔مگر اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ ان کی کسی خواب یا الہام میں ان کے دل کی تمنا یا نفس کے رجحان کا دخل ہو گیا ہو۔لہذا استخاروں کے نتیجہ میں متضاد خوابوں کی ایک امکانی تشریح یہ بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ ممکن ہے کہ ایک دوست کی خواب رحمانی ہو اور دوسرے کی خواب میں اس کی ذاتی رائے یا نفسیاتی میلان کا اثر شامل ہو گیا ہو۔خوابوں کی مختلف اقسام ضمنا یہ بات بھی اس جگہ بیان کرنی ضروری ہے کہ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔خواہیں عموماً تین قسم کی ہوتی ہیں۔ایک رحمانی دوسرے نفسانی اور تیسرے شیطانی۔رحمانی خواب تو وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔جس میں اختفاء کا پردہ یا تعبیر کی غلطی ہوتو ہومگر اس کے برحق ہونے میں کوئی کلام نہیں ہوتا۔نفسانی یا زیادہ صحیح طور پر نفسیاتی خواب وہ ہوتی ہے جس میں خواب دیکھنے والے کی ذاتی حالت یا ذاتی رجحان کا دخل ہو جاتا ہے۔اور شیطانی خواب وہ ہے جس میں شیطان یا انسان کے شیطانی خیالات کا اثر شامل ہوتا ہے۔یہ تینوں قسم کی خواہیں اسی طرح اپنی علامات سے پہچانی جاتی ہیں جس طرح کہ دنیا کے ہزاروں انواع کے درخت اپنے پھلوں سے پہچانے جاتے ہیں۔مگر آج کل کے مسلمانوں کی عقل پر کہاں تک رویا جائے۔کہ وہ سگمنڈ فرائڈ کی اس نام نہاد دریافت پر تو سر دھنتے ہیں کہ خوابوں میں انسان کے نفسیاتی حالات کا دخل ہوتا ہے۔مگر عرب کے صحرا میں پیدا ہونے والے اُمی نبی (فداہ نفسی) کے اس عظیم الشان علمی احسان کی طرف سے غافل ہیں۔جس نے آج سے چودہ سو سال پہلے خوابوں کے تین اقسام کی تشریح فرما کر علم رویا میں گویا ایک انقلاب پیدا کر دیا تھا۔سگمنڈ فرائڈ نے اسی چشمہ سے ایک ڈول بھرا اور اسے بھی کئی قسم کی آلائشوں سے