مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 186 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 186

مضامین بشیر جلد سوم 186 اور اس کی جگہ جس بات میں میری بہتری ہو خواہ وہ کوئی ہو مجھے اس کی توفیق دے اور میرے دل میں اس کے ذریعہ تسکین اور بشاشت عطا فرما۔استخارہ کا مسنون طریق یہ ہے کہ رات کو سونے سے قبل انسان دورکعت نفل ادا کرے۔اور ان دو نفلوں میں اوپر والی دعا مانگے۔اور اس وقت اپنے دل میں یہ یقین پیدا کرے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور میں خدا کو دیکھ رہا ہوں۔اور یہ کہ میں اس وقت اپنے خالق و مالک کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے خیر و برکت اور رشد و ہدایت کا طالب ہوں۔اور یہ نماز ایسے درد و سوز اور حضور قلب سے ادا کی جائے کہ گویا اپنے دل کو پگھلا کر خدا کے سامنے رکھ دیا ہے۔اور اس کے بعد کسی اور کام میں مشغول ہونے کے بغیر بستر پر جا کر لیٹ جائے۔اور سوتے ہوئے بھی اس دعا کے مضمون کی طرف دھیان رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو استخارہ کی مسنون دعا یاد نہ ہو وہ اپنی زبان اور اپنے الفاظ میں ہی استخارہ والے مضمون کی دعا کر سکتا ہے۔اور آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سوتے ہوئے یہ مختصر دعا بھی کر لینی چاہئے کہ يَا خَبِيْرُ أَخْبِرْنِي يَا بَصِيرُ أَبْصِرُنِي يَا عَلِيمُ عَلِمُنِي یعنی اے میرے خبیر آقا! مجھے اپنے منشاء سے اطلاع دے۔اوراے میرے بینا خدا! تو مجھے اس معاملہ میں بصیرت عطا کر۔اور اے میرے علیم خالق و مالک ! تو مجھے اپنی جناب سے علم بخش۔اس قسم کا استخارہ سات راتوں تک مسلسل جاری رکھنا چاہئے۔اور اگر اتنا موقع نہ ہو تو کم از کم تین رات تک جاری رکھا جائے۔اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے اس کا بھی موقع نہ ہو تو ایک رات پر ہی اکتفا کیا جاسکتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہاں تک فرماتے تھے کہ فوری ضرورت کے وقت جبکہ درمیان میں ایک رات بھی نہ آتی ہو تو دن کے وقت بھی استخارہ کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ استخارہ بہر حال ایک دعا ہے اور لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔استخارہ کے چار امکانی نتائج استخارہ کا نتیجہ امکانی طور پر چار طرح ظاہر ہو سکتا ہے۔اول۔اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کسی الہام یا رویا کے ذریعہ اپنا منشاء ظاہر فرما دے۔خواہ خود استخارہ کرنے والے پر ظاہر کر دے یا اس کے کسی بزرگ یا عزیز یا دوست پر ظاہر کر دے۔کیونکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْمُؤْمِنُ يَرَىٰ وَ يُرَى لَهُ یعنی کبھی تو مومن کو خود خواب آ جاتی ہے اور کبھی اس کے لئے کسی دوسرے شخص کو خواب دکھا دی جاتی ہے۔