مضامین بشیر (جلد 3) — Page 185
مضامین بشیر جلد سوم 185 و قدیر کے غیر محدود علم اور غیر محدود قدرت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اور زندگی کی بے شمار ٹھوکروں اور لغزشوں سے بچ جاتا ہے۔استخارہ کے یہ دو عظیم الشان فوائد اتنے یقینی اور اتنے قطعی ہیں کہ کوئی دیندار انسان اس کی برکات کا منکر نہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ امت محمدیہ کے اولیاء کرام اور صلحاء عظام نے ہر زمانہ میں استخارہ کو اپنا مسلک بنایا ہے اور زندگی کے کسی حرکت و سکون کو استخارہ کی برکت سے محروم نہیں ہونے دیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بڑی کثرت کے ساتھ اس پر عمل فرماتے تھے۔پس ہماری جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے تمام کاموں میں اس بابرکت نظام سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔اور استخارہ کی عادت کو اتنا راسخ کر لے کہ کسی اہم کام میں اس کی طرف سے غافل نہ ہو۔بلکہ اپنی ذات کے علاوہ اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو بھی اس میں شریک کیا کرے۔استخارہ کی دعا اور اس کا طریق استخارہ کی دعا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے ذیل کے الفاظ میں مروی ہوئی ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَاسْتَقدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاسْتَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُّوب - اللَّهُمَّ إِن كُنتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ امْرِئٍ أَوْ قَالَ فِي عَاجِل أَمْرِى و جلِهِ فَاقْدُرُهُ لِى وَيَسِّرُهُ لِى ثُمَّ بَارِكْ لِى فِيهِ - وَإِن كُنتَ تَعْلَمَ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَ مَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى أَوْ قَالَ فِي عَاجِل أَمْرِى وَ آجِلِهِ فَاصْرِفُهُ عَنِّى وَ اصْرِفْنِى عَنْهُ وَاقْدُرْلِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ ارْضِنِي بِهِ۔آ۔( بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة ) یعنی اے میرے خدا! میں تیرے علم کے ذریعہ تیری جناب سے خیر کا طالب ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ اپنے کاموں میں طاقت اور توفیق چاہتا ہوں۔اور تیرے بھاری فضل کا امیدوار ہوں کیونکہ تو کامل قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا۔اور تو غیر محدود علم کا مالک ہے اور مجھے علم حاصل نہیں۔اور تو یقیناً سب غیوں اور آئندہ ہونے والی باتوں کا جانے والا ہے۔سواے میرے خدا! اگر تیرے علم میں یہ کام جو اس وقت میرے مدنظر ہے میرے لئے دین اور دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے اچھا ہے تو تو مجھے اس کی توفیق عطا کر اور اسے میرے لئے آسان کر دے اور پھر اس میں میرے لئے برکت بھی ڈال۔لیکن اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور دنیا اور انجام کار کے لحاظ سے اچھا نہیں تو اسے مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے دور رکھ