مضامین بشیر (جلد 3) — Page 184
مضامین بشیر جلد سوم 184 صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب کبھی کسی مسلمان کو کوئی ایسا کام پیش آئے جو خدا اور رسول اور اولوالامر کے مقرر کردہ موقت فرائض میں سے نہیں ہے ( کیونکہ مؤقت فرائض کے معاملہ میں استخارہ کا کوئی سوال نہیں ہوتا ) بلکہ ایسا معاملہ ہے کہ اسے اختیار کرنا یا ترک کرنا یا اس کے اختیار کرنے کی صورت اور وقت کا فیصلہ کرنا ہر انسان کی عقل اور سمجھ اور حالات پر چھوڑا گیا ہے۔تو اسے چاہئے کہ ایسا موقع پیش آنے پر خدا تعالیٰ سے استخارہ کر کے اس کی نصرت اور ہدایت اور خیر کا طالب ہوا کرے۔اور یہ دعا کیا کرے کہ اے میرے آسمانی آقا ! تو اس بارے میں میری راہنمائی فرما کہ آیا میں یہ کام جو اس وقت میرے مدنظر ہے کروں یا اسے ترک کر دوں۔یا یہ کہ میں اسے اس صورت میں کروں جو اس وقت میرے مدنظر ہے۔یا کسی دوسرے رنگ میں سرانجام دوں۔یا یہ کہ میں اس کام کو ابھی کروں یا کسی اور وقت پر ملتوی کر دوں۔کیونکہ اے میرے علیم وقد سیر خدا! اس بات کو صرف تو ہی جانتا ہے کہ یہ کام میرے دینی اور دنیوی اور عاجل اور آجل مفاد کے لحاظ سے کس صورت میں اور کس وقت پر زیادہ مفید اور زیادہ با برکت ثابت ہونے والا ہے۔یہ دعا جسے اصطلاحی طور پر استخارہ کی دعا کہتے ہیں ہر ایسے امر کے پیش آنے پر سکھائی گئی ہے جس میں خدا اور اس کے رسول اور اولوالامر کا کوئی موقت حکم موجود نہ ہو۔یعنی کوئی ایسا حکم موجود نہ ہو جس میں یہ ہدایت دی گئی ہو کہ یہ کام فلاں وقت اور فلاں قسم کے حالات میں ضرور کیا جائے۔جیسا کہ مثلاً پانچ وقت کی نماز یا رمضان کے روزے یا ایک صاحب نصاب شخص کے لئے سال گزرنے پر زکوۃ کی ادائیگی فرض ہوتی ہے۔ایسے مؤقت اور معین احکام میں استخارہ کا کوئی سوال نہیں بلکہ در حقیقت ان باتوں میں استخارہ کرنے والا شخص دین سے ٹھٹھا کرتا ہے۔کیونکہ وہ ایک صریح اور موقت حکم کے باوجود استخارہ کی آڑ لے کر خدائی حکم کو مشتبہ کرنا اور ٹالنا چاہتا ہے۔لیکن اس قسم کے احکام کے علاوہ باقی سب امور میں خواہ وہ بظاہر کیسے ہی مفید اور نیک نظر آئیں استخارہ کی تعلیم دی گئی ہے۔اور یہ تعلیم ایسی بابرکت اور روحانی نعمتوں سے ایسی معمور ہے کہ اس ذریعہ سے ہر سچے مومن کو ہر امر میں خدائی رحمت کے دامن سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔اور خدائی نعمتوں کے حصول کے لئے اس کی جھولی دائمی صورت میں کھلی رکھی گئی ہے۔استخارہ کے اس نظام میں دُہری برکت ہے اول یہ کہ اس کے نتیجہ میں انسان کو کثرت کے ساتھ اور بار بار خدا کی طرف رجوع کرنے اور اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع ملتا ہے۔اور خواہ بظاہر استخارہ کا کوئی اور نتیجہ نکلے یا نہ نکلے، استخارہ کی دعا بہر حال غیر معمولی برکت اور تزکیہ نفس اور انابت الی اللہ کا ذریعہ بنتی ہے۔دوسرے اس ذریعہ سے انسان ضعیف البنیان جس کا علم بھی ناقص ہے اور قدرت بھی ناقص ہے۔خدائے علیم