مضامین بشیر (جلد 3) — Page 181
مضامین بشیر جلد سوم 181 نوٹ:۔یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ قضا و قدر کا قانون شریعت کے قانون پر بھی غالب آجاتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ جب یہ دو قانون ایک دوسرے کے مقابل پر آجائیں تو چونکہ اس دنیا کا عام قانون قضاء قدر کا قانون ہے اس لئے وہ شریعت کے قانون پر غالب آجاتا ہے۔یعنی بالفاظ دیگر عام حالات میں ایک نیک آدمی کی نیکی اسے قضاء قدر کے قانون کی زد سے نہیں بچاسکتی۔(محرره 24 اکتوبر 1954 ء) ) روزنامه الفضل لاہور 29 اکتوبر 1954 ء) غریبوں کی امداد کا خاص موسم اشتراکیت کے مقابلہ کا عملی طریق سردی کا موسم بڑی سرعت کے ساتھ آ رہا ہے اور ہوا کی تنگی غریبوں کے لئے کئی قسم کی مشکلات او تکالیف کا سامان کر رہی ہے۔اس موسم میں مفلس طبقہ کی ضروریات میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔سب سے پہلے تو گرم کپڑوں اور گرم بستر کی ضرورت اپنا احساس پیدا کرانا شروع کرتی ہے۔کیونکہ گرمیوں کا نیم برہنہ جسم اور بے بستر اور بے لحاف کی چار پائی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کافی نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ ہی غریبوں کو اپنے شکستہ جھونپڑوں کی مرمت کی فکر لاحق ہونی شروع ہو جاتی ہے تا کہ ہوا کے رخنوں کو بند کر کے اپنے بیوی بچوں اور خود اپنے آپ کو موسم کی تکلیف دہ اور نقصان رساں شدت سے محفوظ رکھ سکیں۔پھر بیماریوں کے لحاظ سے بھی یہ موسم خاص احتیاط کا موسم ہوتا ہے۔کیونکہ اس موسم میں کئی بیماریاں زیادہ زور پکڑ جاتی ہیں۔جن کے علاج معالجہ کی طرف زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے۔اس کے علاوہ بدن کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لئے اس موسم میں خوراک بھی کسی قدر بہتر رکھنی ضروری ہوتی ہے۔الغرض یہ موسم کئی لحاظ سے غریبوں کی ضروریات کو بڑھا دیتا ہے۔لیکن چونکہ ان کے وسائل ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مکتفی نہیں ہوتے اس لئے یا تو غرباء کا ایک طبقہ نا قابل برداشت مصیبتوں میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور یا اپنی صحت کو برباد کر کے بیماری اور تلخی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔اور یہ دونوں باتیں اُس جماعت کے لئے نہایت درجہ قابل شرم ہوتی ہیں جس کی طرف ایسا طبقہ منسوب ہوتا ہے۔