مضامین بشیر (جلد 3) — Page 172
مضامین بشیر جلد سوم 172 مردان نے اطلاع دی کہ ان کا چار سالہ نواسہ اور میجرمحمد اسلم خاں مرحوم کا اکلوتا لڑکا کوہ مری میں اپنی کوٹھی کی اونچی کھڑکی سے گر کر وفات پا گیا ہے۔چونکہ اس بچہ کا والد میجر اسلم ابھی چند ماہ ہوئے موٹر کے حادثہ میں فوت ہوا تھا۔جس سے اسلم مرحوم کی بیوی کو جو ایک مخلص خاتون ہے انتہائی صدمہ پہنچا تھا اور اس حادثہ کے چند ماہ بعد اس کا اکلوتا لڑکا بھی ایک حادثہ کے نتیجہ میں اچانک فوت ہو گیا۔اس لئے گویا اس اوپر تلے کے دردناک حادثات سے ایک آباد گھر ویران ہو کر اور ایک خوش و خرم گھر غم کدہ بن کر رہ گیا۔اور اس گھر کی روشنی دیکھتے دیکھتے بھیانک تاریکی میں تبدیل ہو گئی۔یہ ایک نہایت دردناک واقعہ تھا جس کی اطلاع مجھے اپنی بیماری کے دوران میں پہنچی اور اس نے سخت صدمہ پہنچایا۔اور حیات انسانی کی تمام گرم جوشی بالکل سرد پڑ کر آنکھوں کے سامنے آگئی۔میں اس تلخ حادثہ سے متعلق ایک نوٹ لکھنے اور اپنے دوستوں کو اس قسم کے دردناک حادثات کے دینی فلسفہ کی طرف توجہ دلانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اپنی بیماری کی وجہ سے رُکا رہا اور اپنی شفایابی کا انتظار کرتا رہا کہ اچانک آج کے اخباروں سے ایک اور دردناک حادثہ کی اطلاع پہنچی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کی ہوائی فوج کا ایک ہونہار نو جوان فلائنگ آفیسر عبدالحمید خاں غزنوی ایک ہوائی حادثہ میں اچانک فوت ہو گیا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - عبد الحمید خاں نہ صرف اپنی ذات میں ایک بہت ہو نہار اور ترقی کرنے والا نو جوان تھا جو غالباً آگے چل کر پاکستان کی ائیر فورس کے لئے زینت کا موجب بنتا۔بلکہ اپنے خاندان کے لئے بھی جو باوجود اپنے وطن میں بہت معزز ہونے کے اس وقت غربت اور تنگدستی کی حالت میں ہے۔بظاہر ایک واحد سہارا تھا۔مرحوم کا والد نیک محمد خاں افغانستان کے شہر غزنی کا مہاجر تھا۔جسے نہ صرف ملکی تقسیم کے گزشتہ فسادات میں دُہری ہجرت کا دھکا برداشت کرنا پڑا بلکہ وہ قریباً ایک سال سے ربوہ میں فالج زدہ ہو کر صاحب فراش بھی ہے۔اور اس طرح اپنے غریب والدین اور بہت سے بہن بھائیوں کا سارا بوجھ مرحوم عبدالحمید خاں غزنوی فلائنگ آفیسر کے سر پر تھا۔گویا اس نوجوان کی اچانک موت نے ایک پورے خاندان کو بظاہر بالکل اپاہج اور بے دست و پا کر کے رکھ دیا ہے۔یہ وہ دوسرا دردناک حادثہ ہے جس کی اطلاع ہمیں ایک ماہ کے اندر اندر اوپر تلے پہنچی ہے۔مرنے والوں کی روحیں اپنے آسمانی آقا کے قدموں میں پہنچ چکی ہیں۔جہاں انشاء اللہ ان کے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔مگر ان کے پسماندگان کے درد والم کا کیا علاج ہے۔جن پر گویا مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔اور ان کی زندگیوں کے لہلہاتے کھیت ایک آنِ واحد میں سوکھ کر پیوند خاک ہو گئے ہیں؟ یہ علاج صرف ہمارے خدا کے