مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 163

مضامین بشیر جلد سوم مضامین قرآن 163 محتر می مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری پرنسپل جامعتہ المبشرین نے مجھ سے یہ خواہش کی ہے کہ میں رسالہ الفرقان کے لئے ایک چھوٹا سا نوٹ ” مضامین قرآن کے عنوان کے ماتحت لکھ کر بھجواؤں۔اس سے چند دن قبل انہوں نے لکھا تھا کہ ترتیب فی القرآن“ کے موضوع پر کچھ لکھوں لیکن اب وہ مؤخر الذکر مضمون کو ترجیح دیتے ہیں۔میرے لئے یہ مشکل ہے کہ ایک طرف تو یہ دونوں مضمون گویا بحر بیکراں کا رنگ رکھتے ہیں اور دوسری طرف آجکل جلسہ سالانہ کے قرب اور قافلہ قادیان کے ہنگامی کام کی وجہ سے فرصت بہت ہی کم ہے اور پھر مجھے نقرس کے عارضہ کی وجہ سے ( عارضہ ہی کہنا چاہئے ، گو وہ اب تو ایک مستقل مرض بن گیا ہے ) سخت اعصابی تکلیف رہتی ہے اور طبیعت میں یکسوئی نہیں پیدا ہوتی اس لئے کسی لمبے مضمون کا لکھنا محال ہے تاہم ثواب کی خاطر مؤخر الذکر مضمون کے متعلق ذیل کی چند سطور رسالہ الفرقان کے (قارئین۔ناقل ) کی ضیافت طبع کے لئے پیش کرتا ہوں۔یہ نوٹ صرف ایک پیج کے رنگ میں ہے جسے ( قارئین) کرام اپنی اپنی استعداد کے مطابق ترقی دے کر درخت کی شکل دے سکتے ہیں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے مضامین کی نوعیت اور وسعت کو سمجھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض و غایت اور آپ کے مقام کا سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے نازل ہوا ہے۔پس جو غرض و غایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ہے وہی لاز ما قرآن کے نزول کی ہے اور تمام قرآنی مضامین اسی غرض وغایت اور اسی مقصد ومنتہا کے اردگر دگھومتے ہیں۔اب جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض و غایت پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کے لئے سورۃ البقرہ کی یہ آیت کلیدی حیثیت میں ظاہر ہوتی ہے کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقره: 130) یعنی اے ہمارے پروردگار تو ہماری اس نسل میں ( جو مکہ کی غیر ذی زرع وادی اور عرب کے لق و دق صحرا میں آباد کی جارہی ہے) اپنا ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیات سنائے اور انہیں احکامِ شریعت اور ان کی حکمت سکھائے اور انہیں پاک کر کے تیرے حضور میں بلند کرے۔یقیناً تو بہت غالب آقا اور تمام