مضامین بشیر (جلد 3) — Page 159
مضامین بشیر جلد سوم 159 مال ہے یا دل و دماغ کی طاقتیں ہیں یا علم ہے۔یا اوقات زندگی ہیں۔ان سب میں سے خدا اور جماعت کا حصہ نکالیں۔اور خصوصاً انہیں بچپن میں ہی اپنے ہاتھ سے چندہ دینے اور غریبوں کی مدد کرنے اور جماعتی کاموں میں اپنے وقت کا حصہ خرچ کرنے کا عادی بنائیں۔یہ حکم نماز کے بعد اسلام کا دوسرا ستون ہے اور اس کے بغیر کوئی شخص حکومت الہی کی لڑی میں پر دیا نہیں جاسکتا۔(ہفتم) ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ہمیشہ شرک خفی کے گڑھے میں گرنے سے ہوشیار رکھیں۔دنیا کی ظاہری تدبیروں کو اختیار کرنے کے باوجود ان کا دل ہر وقت اس زندہ ایمان سے معمور رہنا چاہئے کہ ساری تدبیروں کے پیچھے خدا کا ہاتھ کام کرتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے ( ہشتم ) بچوں کو ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کا ادب سکھایا جائے۔خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار اور ہمسایہ ہوں یا اجنبی۔ادب اسلامی طریقت کی جان ہے۔اور پھر بچوں کے اندر خصوصیت سے والدین کی اطاعت اور خدمت اور احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے۔اس کی طرف سے غفلت برتنے کو ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں گناہ نمبر 2 شمار کیا ہے۔(نہم ) ہر احمدی ماں کا یہ فرض ہے کہ وہ بچوں میں سچ بولنے کی عادت پیدا کرے۔صداقت تمام نیکیوں کا منبع اور جھوٹ تمام بدیوں کا مولد ہے۔سچ بولنے والا بچہ خدا کا پیارا اور قوم کی زینت اور خاندان کا فخر ہوتا ہے۔اور قول زُور سے بڑھ کر اخلاق میں پستی پیدا کرنے والی اور بدی کے ناپاک انڈوں کو سینے والی کوئی چیز نہیں۔(دہم) ماں باپ کا فرض ہے کہ ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے خدا کے حضور دعا کریں کہ وہ انہیں نیکی کے رستہ پر قائم رکھے۔اور دین و دنیا میں ترقی عطا کرے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔یہ وہ دس بنیادی باتیں ہیں جو اولاد کی تربیت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔اور یہ وہ بیج ہے جو احمدی ماؤں کے ہاتھوں سے ہر احمدی بچے کے دل میں بویا جانا ضروری ہے۔ورنہ گوخدا کے رسول تو بہر حال غالب ہو کر رہتے ہیں مگر کم از کم جہاں تک انسانی کوشش اور ظاہری اسباب کا تعلق ہے۔جماعت کی ترقی۔این خیال است و محال است و جنوں احمدی ماؤں سے دردمندانہ اپیل پس اے احمدی ماؤں ! تم پر ایک بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تمہارے ہاتھوں میں قوم کے وہ نو نہال پلتے ہیں جو آج کے بچے اور کل کے جوان ہیں۔آج کے بیٹے اور کل کے باپ ہیں۔آج کے تابع