مضامین بشیر (جلد 3) — Page 155
مضامین بشیر جلد سوم 155 لئے پی لو۔مگر شفا دینے والا صرف خدا ہے۔اس لئے دوائی بھی پیو اور خدا سے دعا بھی مانگو کہ وہ تمہیں اچھا کر دے۔ان کے بچے کا امتحان سر پر ہوتا ہے وہ اسے محبت کے ساتھ سمجھاتی ہیں کہ برخوردار وقت ضائع نہ کر اور کتا ہیں پڑھو مگر ساتھ ہی یہ الفاظ بھی کہتی جاتی ہیں کہ دیکھونا ! پاس تو تم نے صرف خدا کے فضل سے ہی ہونا ہے۔مگر یہ اسباب کا سلسلہ بھی تو خدا کا ہی پیدا کیا ہوا ہے۔اس لئے پڑھائی بھی کرو اور خدا کا فضل بھی مانگو۔یہ وہ نونہال ہیں جن کے دلوں میں بچپن سے ہی سچی توحید کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور بعد کا کوئی طوفان اسے مٹا نہیں سکتا۔ماں باپ کی خدمت سے کوتا ہی کرنا دوسری ہدایت اس حدیث میں ماں باپ کی خدمت سے غفلت برتنے کے متعلق ہے جسے اسلام میں گویا شرک کے بعد دوسرے نمبر کا گناہ قرار دیا گیا ہے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ سے ماں باپ کی نافرمانی ہی مراد نہیں بلکہ ان کا واجبی ادب نہ کرنا اور ان کی خدمت کی طرف سے غفلت برتنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس جگہ ماں باپ کا لفظ بھی دراصل مثال کے طور پر رکھا گیا ہے۔ور نہ جیسا کہ دوسری حدیثوں میں صراحت کی گئی ہے مراد یہ ہے کہ علی قدر مراتب سب بزرگوں کا ادب اور احترام ملحوظ رکھنا چاہئے۔جن میں یقیناً والدین کو خاص مقام حاصل ہے۔پس نیک ماؤں کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بچپن سے ہی نہ صرف ماں باپ کا بلکہ سارے بزرگوں کا ادب کرنا سکھائیں۔دادا، دادی ، چا، چی ، پھوپھا، پھوپھی ، خالہ، خالو، نانا، نانی، ماموں، ہمانی، بڑا بھائی ، بڑی بہن، ہمسایہ کے بزرگ ، قوم کے بزرگ ، ملک کے بزرگ، ہر ایک کا ادب ملحوظ رکھنا اور ان سب سے عزت کے ساتھ پیش آنا اسلامی اخلاق کی جان ہے۔اور احمدی ماؤں کا فرض ہے کہ اپنے بچوں میں اس خلق کو راسخ کرنے کی کوشش کریں۔یہ مقولہ کتنی گہری صداقت پر مبنی ہے کہ الطَّريقَةُ كُلُّهَا اَدَب یعنی دین کا رستہ سب کا سب ادب کے میدان میں سے ہوکر گزرتا ہے۔اور حق یہ ہے کہ ادب اصلاح نفس کا بھی بھاری ذریعہ ہے کیونکہ جو بچے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں وہی ان کی نصیحتوں کو سنتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس خوش قسمت ہیں وہ مائیں جو اپنے بچوں کے اندرادب کا سلیقہ قائم کرنے میں کامیاب ہوں۔کیونکہ صرف اس قدم سے ہی ان کے تربیتی سفر کا تیسرا حصہ کٹ جاتا ہے۔