مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 151 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 151

مضامین بشیر جلد سوم 151 پاک نمونہ بننے کے لئے خدا ہر زمانہ میں اپنے رسول بھیجتا رہا ہے۔اور ان میں سے آخری صاحب شریعت رسول، محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ہیں۔جو تمام نبیوں کے سردار اور خاتم النبین اور افضل الرسل ہیں۔جن کے دین کی خدمت اور تجدید کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے۔ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات راسخ ہونی چاہئے کہ موت کے بعد ایک اور زندگی بھی ہے جس میں جزا سزا کی تیاری کے لئے انسان کو اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔اور بالآخر ہر احمدی بچے کے دل میں یہ بات بھی راسخ ہونی چاہئے کہ روحانی ہدایت ناموں کے علاوہ دنیا کا مادی کارخانہ بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے قانونِ قضاء و قدر کے ماتحت چل رہا ہے خواہ وہ قانون خیر سے تعلق رکھتا ہے یا کہ شر سے۔یہ سب باتیں ہر احمدی بچے کے دل میں بچپن سے ہی اس طرح راسخ ہونی چاہئیں کہ بعد کی زندگی کا کوئی طوفان خواہ وہ کتنا ہی خطرناک ہوا سے اس عقیدہ سے متزلزل نہ کر سکے۔اور احمدی بچوں کے دلوں میں حسن قول اور حسن فعل کے ذریعہ یہ ایمان پیدا کرنا احمدی ماؤں کا کام ہے۔اگر پانی جیسی سیال چیز قطرہ قطرہ گر کر پتھر جیسی سخت چیز میں دائمی نقش پیدا کر سکتی ہے۔تو ماں کی شب وروز کی نصیحت بچوں کے دلوں میں کیوں یہ غیر فانی ایمان پیدا نہیں کر سکتی ؟ مگر آجا کے بات وہیں آجاتی ہے کہ ماں خود نیک اور دیندار ہو۔ہمارے رسول سپر خدا کی ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں۔آپ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ۔عَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ( بخاری کتاب النکاح) یعنی اے مسلمان مرد! تیرا فرض ہے کہ دیندار با اخلاق بیوی سے شادی کرور نہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلو در ہیں گے۔عمل کے میدان میں دو بنیادی نیکیاں ایمان کے بعد اعمال کا مرحلہ ہے۔جن میں سے اوپر کی آیت میں دو بنیادی عملوں کو منتخب کیا گیا ہے۔ان میں ایک نماز ہے۔اور دوسرے انفاق فی سبیل اللہ ( یعنی خدا کے رستہ میں خرچ کرنا) ہے اور حق یہ ہے کہ یہ دو عمل حقیقتاً اسلام کی جان ہیں۔اور باقی سب اعمال انہی دو عملوں کی شاخیں اور انہی دو نہروں کے راجبا ہے ہیں۔نماز خدا کا حق ہے جو خدا کے ساتھ بندے کا ذاتی تعلق قائم کرا تا اور اس کے عظیم الشان پاور اسٹیشن کے ساتھ بندے کے دل کی تاروں کا جوڑ ملا کر اس کے سینہ میں ایک دائمی شمع روشن کر دیتا ہے۔اور دوسری طرف انفاق فی سبیل اللہ بندوں کا حق ہے جس کے ذریعہ نہ صرف جماعت اور قوم کے مشترکہ