مضامین بشیر (جلد 3) — Page 148
مضامین بشیر جلد سوم 148 کہ بچے کی تعلیم و تربیت کا زمانہ کس وقت سے شروع ہونا چاہئے۔اس معاملہ میں اکثر ماں باپ اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بچپن تو کھیل کو د اور آزادی اور بے قیدی کا زمانہ ہے۔جب بچہ ذرا بڑا ہولے گا تو پھر اس کی تربیت کا وقت آئے گا۔یہ نظریہ سخت مہلک اور اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔ہمارے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے تاکیداً ارشاد فرمایا ہے کہ ایک بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں سب سے پہلی آواز اذان کی پہنچاؤ۔کیونکہ اذان کے الفاظ میں نہ صرف اسلام کی تعلیم کا خلاصہ آ جاتا ہے بلکہ اس میں ایک زبر دست دعوت کا رنگ بھی ہے جس میں گویا مخاطب کو آواز دے کر بلایا جاتا ہے۔کہ اے سننے والے ادھر کان دھر۔اور صلوٰۃ اور فلاح کے رستہ پر قدم زن ہوتا ہوا اس طرف چلا آ۔پس رسول اکرم صلے اللہ علیہ والہ وسلم کے اس مبارک ارشاد میں یہ صریح اشارہ ہے کہ بچہ کی تربیت اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہو جانی چاہئے۔یہ خیال کہ شروع میں تو بچہ کچھ سمجھا ہی نہیں بالکل غلط اور باطل ہے۔کیونکہ اول تو خواہ وہ الفاظ کو سمجھے یا نہ سمجھے۔بہر حال کسی نہ کسی رنگ میں اس کی ولادت کے ساتھ ہی اس کے تاثر و تاثیر کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور دماغ کے غیر شعوری حصہ میں کچھ نہ کچھ نقش جمنے لگ جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اس ہدایت میں والدین کے لئے بھی یہ سبق ہے کہ خواہ تمہارے خیال میں بچہ کا یہ زمانہ غیر شعوری زمانہ ہی ہو۔تمہیں ابھی سے اس کی تربیت کی فکر کرنی چاہئے۔کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کے شعور کا زمانہ کب شروع ہوتا ہے۔پس ممکن ہے کہ تم اسے ایک گم صم بت سمجھ کر نظر انداز کر دو اور وہ اندر ہی اندر ماحول کا بُرا اثر قبول کر کے خراب ہونا شروع ہو جائے۔بہر حال اسلامی تعلیم کے مطابق بچوں کی تربیت کا زمانہ ان کی ولادت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔اور وہ ماں باپ بڑے ہی بد قسمت ہیں جو اپنے بچہ کے چند ابتدائی سال اس غفلت میں گزار دیتے ہیں کہ ابھی وہ تربیت کے قابل نہیں ہوا۔بچے کی آنکھوں کے سامنے زہر آلود اور حیا سوز نظارے آتے ہیں۔اور نادانی سے خیال کیا جاتا ہے کہ ابھی بچہ ان باتوں کا شعور نہیں رکھتا۔بچہ کے کانوں میں خلاف اخلاق اور خلاف شریعت با تیں پہنچتی ہیں۔اور بے وقوفی سے فرض کر لیا جاتا ہے کہ بچہ ابھی ان باتوں کو نہیں سمجھتا۔اور نہیں جانتا اور اس سارے عرصہ میں ایک زہری فصل کا بیچ بچہ کے دل و دماغ میں بویا جارہا ہوتا ہے۔بیشک بچہ بسا اوقات اس بیج کی مسمومیت کو نہیں پہچانتا۔مگر زہر پھر بھی زہر ہے۔اور اندر ہی اندر اپنا کام کرتا چلا جاتا ہے۔پس اولاد کی تربیت کا دوسرا سبق یہ ہے کہ ان کی ولادت کے ساتھ ہی ان کی تربیت کا خیال شروع کر دو۔اور خواہ وہ بظاہر تمہاری بات سمجھیں یا نہ سمجھیں تم یہی سمجھو کہ وہ تمہارے ہر فعل کو دیکھ رہے اور ہر قول کوسن