مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 139

مضامین بشیر جلد سوم 139 ہیں۔اور طبعا اس معاملہ میں اسلامی نقطۂ نظر معلوم کر کے اپنے زخم خوردہ دل کو تسلی دینا چاہتے ہیں۔سوذیل کے مختصر مضمون میں ان کے سوال کا جواب عرض کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ جہاں میرا یہ مضمون ان کی علمی تسلی کا موجب ہو وہاں اللہ تعالیٰ ان کے زخم خوردہ دل کے لئے بھی اپنے فضل و رحم سے صبر اور تسکین کا رستہ کھولے۔آمین۔یہ دوست غیر از جماعت ہونے کے باوجود جماعت کے ساتھ دیر بینہ انس اور محبت رکھتے ہیں۔اور موجودہ پر آشوب زمانہ میں ہمیں طبعاً ایسے اصحاب کی خاص قدرومنزلت ہے کیونکہ طوفانِ باد میں ایک قطرہ باراں بھی رحمت کا باعث بن جایا کرتا ہے۔اور ہمارے لئے تو خدا کے فضل سے موجودہ طوفانِ عظیم میں ایسے کئی قطرات رحمت میسر ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ وَلَانُ شَكَرَنَا لَيَزِيدَنَّنَا اللَّهُ الْكَرِيمَ جیسا کہ میں نے اپنے ابتدائی مضمون میں لکھا تھا تقدیر کا مسئلہ بظاہر بالکل سادہ اور صاف ہونے کے باوجود علمی لحاظ سے بہت بار یک بلکہ پیچدار مسئلہ ہے۔اور عام لوگوں کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اس معاملہ میں دین العجائز پر قائم رہیں۔اور زیادہ باریک بحثوں میں پڑنے کے بغیر اس بنیادی ایمان پر قائم رہیں ( کیونکہ یہی ایمان مسئلہ تقدیر کا بنیادی امر ہے ) کہ ہمارے مادی اور روحانی عالم میں جو قانون بھی جاری نظر آتا ہے وہ سب خدا ہی کا بنایا ہوا ہے۔کیونکہ ہمارا خدا دنیا کا صرف خالق ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کا حاکم اور منصرم بھی ہے۔مسئلہ تقدیر کے اس بنیادی اور مرکزی نقطہ سے آگے اتنا گہرا پانی ہے کہ عام انسان اس میں غوطہ کھانے سے بچ نہیں سکتا اور ظاہر ہے کہ غوطہ کھانے والا انسان بسا اوقات ڈوب بھی جایا کرتا ہے۔در اصل مسئلہ تقدیر کی ساری پیچیدگی چند اصولی باتوں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔مگر یہ چند باتیں ایسی خاردار ہیں کہ بسا اوقات ایک اوسط درجہ کا سمجھدار آدمی انہیں سمجھ لینے کے بعد بھی ان کی طرف سے عملا غافل رہتا اور ٹھوکر کھا جاتا ہے۔یہ باتیں مختصر طور پر ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔(1) یہ کہ خدا کا علم اس کی جاری کردہ تقدیر سے بالکل جدا گانہ چیز ہے۔اگر خدا کے علم میں یہ بات ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت فوت ہوگا تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ شخص معلوم وقت پر اس لئے فوت ہوا ہے کہ خدا کے علم میں اس نے اس وقت فوت ہونا تھا۔بلکہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔یعنی یہ کہ خدا کو یہ علم اس لئے ہے کہ اس شخص نے ایک خاص وقت میں فوت ہونا تھا۔دوسرے الفاظ میں یہ کہ خدا کے علم کی وجہ سے اس شخص کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ خدا کو علم اس لئے ہے کہ اس کی فلاں وقت موت واقع ہوئی تھی۔اس کی سادہ مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر ایک ماہر ڈاکٹر کو اپنے خصوصی علم کی بناء پر یہ اندازہ ہو جائے کہ میرا