مضامین بشیر (جلد 3) — Page 136
مضامین بشیر جلد سوم 136 تو پھر ہزاروں امور اتحاد کو نظر انداز کر کے چند اختلافی امور کی بناء پر ہمیں مطعون کرنا کہ ہم اسلام سے خارج ہو گئے اور ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ رکھا ہے کہاں کا انصاف ہے؟ پھر کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ ان اختلافی امور میں بھی ہر معاملہ میں پہل بلا استثناء دوسرے مسلمانوں کی طرف سے ہوئی ہے۔ہم یہ بات تاریخی ریکارڈ سے قطعی طور پر ثابت کر سکتے ہیں کہ ہمیں کافر اور ضال قرار دینے میں دوسرے مسلمانوں نے پہل کی۔ہماری قیادت میں نماز ادا کرنے کو حرام قرار دینے میں دوسرے مسلمانوں نے پہل کی۔ہم سے رشتہ ناتا کے تعلقات قطع کرنے میں دوسرے مسلمانوں نے پہل کی۔جنازوں کے معاملہ میں دوسرے مسلمانوں نے پہل کی حتی کہ بعض صورتوں میں احمدیوں کو دوسرے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن تک نہیں ہونے دیا بلکہ آپ حیران ہوں گے کہ بعض صورتوں میں دفن شدہ احمدیوں کی لاشوں کو قبروں سے باہر نکال کر پھینک دیا گیا۔یہ سب باتیں ہماری طرف سے کچھ کہے جانے سے بہت عرصہ قبل ہمارے متعلق روا رکھی گئیں۔اور ہمارے خلاف ان زہر افشاں فتاوی کا بار بار اعلان کر کے ملک میں گویا ایک آگ لگا دی گئی۔مگر اس سارے عرصہ میں ہمارے امام نے اس کے سوا کچھ نہیں کہا کہ ؎ کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں اور دوسری جگہ فرمایا۔نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار آخر کنند دعوی حُبّ پیمبرم یعنی اے دل تو اب بھی دوسرے مسلمانوں کے متعلق نیک خیال رکھ۔کیونکہ خواہ کچھ ہو وہ میرے رسول کی محبت کا دعوی کرتے ہیں۔پس خدا جانتا ہے کہ ہم سراسر مظلوم ہیں لیکن مظلوم ہونے کے باوجود ہم نے اخوت اسلامی کے ماتحت ہر میدان میں دوسرے مسلمانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی کو اپنا اصول ٹھہرا رکھا ہے۔اور ہماری گزشتہ تاریخ ہمارے اس دعوئی پر ایک زبر دست گواہ ہے مگر غضب یہ ہے کہ اگر اس ظلم کے بوجھ کے نیچے ہمارے منہ سے کبھی کوئی آہ نکل جاتی ہے تو اس آہ کو بھی ہمارے خلاف پراپیگنڈا کا ذریعہ بنالیا جاتا ہے۔کہ لیجئیو دوڑیو،