مضامین بشیر (جلد 3) — Page 133
مضامین بشیر جلد سوم 133 طرف سے مجھے ایک خط پہنچا تھا کہ جب ہم نے نماز کی اقتداء اور رشتہ نا تا وغیرہ کے معاملہ میں اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ رکھا ہے تو پھر ہم کس طرح یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے نہیں کاٹا ؟ اور اس نوجوان نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے خط کا جواب خط کے ذریعہ نہیں بلکہ اخبار کے ذریعہ دیا جائے۔لیکن میں نے موجودہ ملکی حالات میں اخبار کے ذریعہ جواب دینے کو پسند نہ کرتے ہوئے اس بات سے معذرت ظاہر کی اور خط کے ذریعہ جواب بھجوا دیا۔مگر چونکہ کئی دن گزر جانے کے باوجود مجھے اس نوجوان کی طرف سے خط پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔اور مجھے شبہ ہے کہ شاید انہیں میرا خط نہ پہنچا ہواہنا بصورت مجبوری اپنا وہ خط جو ان کے نام بھجوایا گیا تھا ذیل میں شائع کرا رہا ہوں۔تا اگر وہ ڈاک کے ذریعہ نہیں پہنچا تو کم از کم اس عزیز کی خواہش کے مطابق اخبار کے ذریعہ ہی پہنچ جائے۔وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنِّيَاتِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ فِي كُلِّ حَالٍ عزیزم مکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار۔مرزا بشیراحمد ربوہ 53-10-21 آپ کا خط محررہ 53-9-8 موصول ہوا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ طبیعت کی علالت اور عدم یکسوئی کی وجہ سے جلد جواب نہیں دے سکا۔امید ہے آپ اس کا خیال نہیں فرمائیں گے۔مجھے اس خیال سے خوشی ہوئی کہ آپ بھی اس کا لج میں تعلیم پاتے ہیں جس کا میں اولڈ بوائے ہوں۔آپ نے میرے مضمون شائع شدہ اخبار المصلح بتاریخ 53-9-3 زیر عنوان ” کیا ہم نے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے کاٹ رکھا ہے؟“ کے متعلق یہ اعتراض کیا ہے کہ جب یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے نماز اور رشتہ ناطہ وغیرہ کے معاملہ میں اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے واقعی کاٹ رکھا ہے تو ہم کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم نے دوسروں سے اپنے آپ کو نہیں کا ٹا؟ اور آپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ میں آپ کے اس اعتراض کا اخبار کے ذریعہ جواب دوں۔عزیز من! یہ تو انصاف نہیں ہے کہ آپ تو پرائیویٹ خط لکھیں اور میں پبلک میں جواب دوں۔علاوہ از میں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ملک کا موجودہ ماحول جماعت احمدیہ کے خلاف اس قدر مسموم ہے کہ ہماری ہر معصوم اور سیدھی بات بھی فتنہ کی بنیاد بن جاتی ہے۔اور یہ مناسب نہیں کہ موجودہ نازک وقت میں ملک کے اندر کسی قسم کا انتشار پیدا ہو۔اس لئے آپ کی خواہش کے خلاف خط کے ذریعہ یہ مختصر جواب ارسال کر رہا