مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 129 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 129

مضامین بشیر جلد سوم 129 اس جگہ میں ایک ضمنی اور علمی بات کی تشریح کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔جو کئی سادہ لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے اور چالاک اور بے اصول لوگ تو اس سے کئی قسم کے ناجائز فائدے اٹھاتے اور عوام الناس کو دھوکا دینے کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں۔میری مراد حوالہ جات کے ناجائز تصرف کے طریق سے ہے جس میں آج کل بد قسمتی سے علماء صاحبان کا ایک طبقہ خوب مشاق نظر آتا ہے۔عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کسی حوالہ میں ناجائز تصرف صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنی کسی خاص غرض کے ماتحت کسی حوالہ کی عبارت کو بدل کر یا الفاظ کو آگے پیچھے کر کے پیش کیا جائے۔مگر ہمارے دوستوں اور خصوصاً علم کلام سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں کو یا درکھنا چاہئے اور یہ نکتہ انہیں انشاء اللہ کئی مواقع پر کام دے گا کہ ناجائز تصرف صرف اس بات کا نام نہیں کہ کوئی حوالہ الفاظ بدل کر پیش کیا جائے بلکہ ناجائز تصرف عموما تین قسم کا ہوتا ہے اور ہمارے دوستوں کو ان سب تصرفات بے جا کی طرف سے ہمیشہ ہوشیار اور چوکس رہنا چاہئے۔(1) پہلا اور عام قسم کا تصرف تو یہ ہوتا ہے کہ کسی حوالہ کے الفاظ کو بدل کر پیش کیا جائے۔یعنی یا تو اس کے الفاظ بدل دیئے جائیں اور یا الفاظ کی ترتیب بدل کر غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی جائے۔ایسا تصرف عموماً صرف بے وقوف لوگ کرتے ہیں جنہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم بہت جلد پکڑے جا کر ننگے کر دئیے جائیں گے۔یا بعض بد دیانت مناظر خاص خاص موقعوں پر اپنے سامعین کو وقتی طور پر دھوکا دینے کی غرض سے یہ طریق اختیار کرتے ہیں۔مگر ہوشیار لوگ عموماً اس بھونڈے طریق سے بچتے ہیں۔(2) دوسری قسم کا نا جائز تصرف یہ ہوتا ہے جس میں نسبتاً زیادہ چالا کی اور ہوشیاری پائی جاتی ہے کہ حوالہ کے الفاظ تو نہ بدلے جائیں مگر اُسے اس کے سیاق و سباق کاٹ کر پیش کیا جائے۔یعنی اگلی پچھلی عبارت حذف کر کے اور صرف درمیانی حصہ یا ایک طرف کا حصہ پیش کر کے مطلب براری سے کام لیا جائے۔جیسا کہ ہمارے ملک میں لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ والا لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص جو تارک نماز تھا۔اس نے اعتراض ہونے پر جواب دیا کہ قرآن مجید خود فرماتا ہے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ اور آیت کے اگلے حصہ کو کھا گیا کہ وَأَنتُمْ سُكَاری یعنی ایسے وقت میں نماز نہ پڑھو کہ جب ( نیند یا بھوک یا حوائج انسانی وغیرہ کی وجہ سے ) تمہاری توجہ میں غیر معمولی انتشار ہو اور تم نماز میں توجہ نہ جما سکو۔بلکہ اس قسم کی اشدا اور فوری ضروریات سے فارغ ہو کر یا ان پر غلبہ پا کر نماز پڑھو۔تاکہ نماز کی اصل غرض حاصل ہو۔الغرض دوسری قسم کا نا جائز تصرف یہ ہے کہ کسی حوالہ کو اس کے سیاق و سباق اور آگے پیچھے کی عبارت سے کاٹ کر اپنا کوئی خاص مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔