مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 123 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 123

مضامین بشیر جلد سوم 123 مولوی فاضل کلاس میں تعلیم پاتا تھا۔دریائے چناب میں ڈوب کر فوت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقره: 157)۔وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: 28) رضوان جو کئی ہزار میل کی مسافت طے کر کے علم دین کی تحصیل کی غرض سے ربوہ آیا ہوا تھا۔اور جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے اپنے والدین کا سب سے بڑا بچہ تھا۔ایک بہت ہی شریف اور ہونہار اور دیندار لڑ کا تھا۔جس کی عمر ابھی بمشکل سترہ یا اٹھارہ سال کی ہوگی۔مجھے یاد ہے کہ جب وہ شروع شروع میں پاکستان پہنچا تو اس وقت میرا دفتر لاہور میں ہوتا تھا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کہیں باہر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔چنانچہ رضوان مرحوم سب سے پہلے لاہور میں مجھے ملا اور عربی زبان میں باتیں کرتا رہا۔اس وقت سے میری طبیعت پر رضوان کی شرافت کا خاص اثر تھا۔کم گو، شریف مزاج، بے شر مخلص، دینی جذبات سے معمور، اور ہونہار۔یہ وہ اثر ہے جو ہر وہ شخص جو رضوان سے ملا اس کے متعلق قائم کرتا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بچے کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اس کے والدین کو جنہوں نے اسے کن امنگوں اور امیدوں کے ساتھ ربوہ بھجوایا تھا صبر جمیل اور ثواب عظیم سے نوازے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ معلوم ہوا ہے کہ رضوان مرحوم جامعہ احمدیہ کے طلباء اور اساتذہ کی ایک پارٹی کے ساتھ تفریح کی غرض سے دریائے چناب پر گیا تھا اور سارا دن اپنے ہم مکتبوں اور اساتذہ کے ساتھ خوش رہا اور جب عصر کی نماز کے لئے وضو کرنے کی غرض سے وہ دریا کے کنارے پر گیا تو جب وہ قریباً اپنا وضو مکمل کر چکا تھا اور صرف ایک پاؤں دھونے والا باقی تھا کہ گیلا پاؤں پھسل جانے سے وہ دریا میں گر گیا۔اور چونکہ سوئے اتفاق سے اس جگہ پانی بہت گہرا تھا اور رضوان تیر نا نہیں جانتا تھا اس لئے بچانے والوں کی کوشش کے باوجود بچایا نہیں جاسکا اور وہ دریا کی تہہ میں بیٹھ گیا۔جہاں سے قریب دو گھنٹے کی مسلسل تلاش اور کوشش کے بعد اس کی نعش نکالی گئی۔جب اس کے ڈوبنے کی اطلاع ربوہ میں پہنچی اور ساتھ ہی یہ اطلاع بھی ملی کہ ڈوبنے پر اتنا وقت گزر چکا ہے تو باوجود زندگی سے بظاہر نا امید ہو جانے کے ربوہ سے بہت سے دوست امداد کے لئے بھجوائے گئے۔تا اگر رضوان کو بچایا نہیں جاسکا تو کم از کم اس کی نعش ہی مل جائے۔اور ہم ایک دُور سے آئے ہوئے بچہ پر نماز جنازہ ادا کر کے اسے اپنے ہاتھوں سے دفن کر سکیں۔اور میں نے اس کے لئے بڑی دعا بھی کی کہ اس کی نعش مل جائے اور احتیاطاً ایک موٹر بھی شور کوٹ جھنگ کی طرف روانہ کرنے کے لئے تیار کر لی تا اگر نعش یہاں نہیں مل سکی تو وہاں ہی مل جائے۔جہاں چناب اور جہلم ملتے ہیں۔اور ڈوبنے والے کی نعش کچھ وقت کے بعد اوپر آجایا کرتی ہے۔مگر الحمدللہ کہ مغرب کے قریب نعش مل گئی۔اور ہم اس مرحوم بچے کو پولیس کی رسمی کا رروائی