مضامین بشیر (جلد 3) — Page 121
مضامین بشیر جلد سوم 121 محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم افراد کی بے چینیوں اور قوموں کی کشمکش کو دور کر کے امن عالم کی بنیاد بنے گی۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ یہ مضمون اصلح ، کراچی میں 7 اقساط میں شائع ہوا) (روزنامہ المصلح کراچی 13، 14، 15، 19،17، 21، 22 مئی 1953ء) آخری عشرہ میں جماعتی دعاؤں پر خاص زور دیا جائے رمضان کا آخری عشرہ شروع ہے۔یہ عشرہ رمضان کے مبارک مہینہ کا مبارک ترین حصہ ہے۔ہمارے دوستوں کو ان ایام کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور فائدہ اٹھانے کا بہترین ذریعہ دعا ہے۔اگر زبان پر دل سے نکلی ہوئی دعا ہو اور انسان کے جوارح خدا کے فضل و رحمت کو جذب کرنے کی اہلیت پیدا کریں تو مومن کی دعا وہ کچھ کر سکتی ہے جسے آج کی مادی دنیا تصور میں بھی نہیں لاسکتی اور اسی لئے یہ میدان صرف مومنوں کے لئے خالی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اکثر لوگ اپنی دعاؤں کو اپنی مادی ضروریات اور دنیوی نعمتوں کے حصول تک محدود رکھ کر اپنے آپ کو ان عظیم الشان روحانی فوائد سے محروم کر لیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے سچے مومنوں کے لئے مقدر کر رکھے ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ دنیوی ضرورتوں کے لئے دعا نہ مانگی جائے۔ان کے لئے بھی بیشک دعا کرنی چاہئے اور ہمارے آقا صل اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کسی کی جوتی کا تسمہ ضائع ہو جائے تو وہ بھی اسے خدا سے مانگے۔پس دوست بے شک اپنی دنیوی اور مادی ضروریات کے لئے بھی دعائیں کریں تا ان کی طبیعت میں سکون اور شکر گزاری پیدا ہو کر مزید دعاؤں کی توفیق ملے۔مگر جو شخص اپنی تمام دعائیں دنیوی ضرورتوں اور مادی انعاموں کے حصول کے لئے وقف کر دیتا ہے وہ میرے خیال میں سچا مومن اور خدا کے دین کا فدائی اور خادم نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ ایسا شخص ایک طرح ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (یعنی ان کی تمام کوشش دنیا کی باتوں میں ہی وقف رہتی ہے) کے وعید کے نیچے آتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ایک شخص خدا کا منکر ہو کر دنیا میں غرق رہتا ہے اور دوسرا خدا کو مان کر اور دعاؤں کی قبولیت کا قائل ہو کر اپنی توجہ عملاً دنیا کی نعمتوں تک محدود رکھتا ہے۔پس اگر غور کیا جائے تو ایک لحاظ