مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 120

مضامین بشیر جلد سوم بحث کا خلاصہ 120 خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اشتراکیت کا نظام۔(الف) انفرادی جد و جہد کے جذبہ کو کمزور کر کے کام کے سب سے بڑے فطری محرک کو مٹاتا ہے۔(ب) فطرت انسانی کے جذبات ہمدردی اور مواسات کو تباہ کرتا ہے۔(ج) انسان کے دماغی قومی کو بے قیمت ٹھہرا کر تنزل کے راستہ پر ڈالتا ہے۔(د) انسان کے اقتصادی حالات کو غیر فطری خارجی سہاروں کے ساتھ وابستہ کرتا ہے اور (۵) روحانیت کو مٹا کر دہریت اور مادیت کا بیج بوتا ہے۔وہاں دوسری طرف اسلام کا نظام۔(الف) اشتراکیت اور سرمایہ داری کے بین بین فطری اور وسطی راستہ پر گامزن ہوتا ہے۔(ب) انفرادی جائیداد کے اصول کو تسلیم کرنے کے باوجود ملکی اور قومی دولت کو سمونے کے لئے ایک پختہ مشینری قائم کرتا ہے۔(ج) دولت پیدا کرنے کے قدرتی وسائل کو سب کے لئے یکساں کھلا رکھتا ہے۔(د) انسانی جذبات ہمدردی اور مواسات کو زندہ رکھتا اور تقویت پہنچاتا ہے اور (۵) خالق و مخلوق کے فطری رشتہ کوملحوظ رکھتا اور ترقی دیتا ہے۔امن عالم کا مستقبل پس لاریب اشتراکیت اور سرمایہ داری کے انتہائی نظاموں کے مقابلہ پر اسلام کا وسطی نظام ہی اس قابل ہے کہ اس پر دنیا کے تہذیب و تمدن کی بنیا د رکھی جائے۔اور انشاء اللہ اسلام کی ترقی کے دوسرے دور میں جو خدا کے فضل سے اب شروع ہو رہا ہے ایسا ہی ہوگا۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا خوب فرمایا ہے کہ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (البقره: 144) یعنی اے مسلمانو! ہم نے تمہیں ایک وسطی امت بنایا ہے۔تا کہ تم دنیا کی مختلف قوموں کے لئے جو افراط و تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہیں۔خدا کی طرف سے سچے رستہ کے گواہ رہواور خدا کے فضل سے وہ وقت دور نہیں کہ یہی وسطی رستہ تمام دوسرے رستوں کو مٹا کر دنیا کی شاہراہ قرار پائے گی اور ہمارے آقا