مضامین بشیر (جلد 3) — Page 119
مضامین بشیر جلد سوم 119 قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْاشْعَرِينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِى ثَوْبِ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّى وَأَنَا مِنْهُمْ ( بخاری کتاب الشركة في الطعام) یعنی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قبیلہ اشعر کے لوگوں کا یہ طریق ہے کہ جب کسی سفر میں انہیں خوراک کا ٹوٹا پڑ جاتا ہے۔یا حضر کی حالت میں ہی ان کے اہل وعیال کی خوراک میں کمی آ جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سب لوگوں کی خوراک ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں۔اور پھر اس جمع شدہ خوراک کو ایک ناپ کے مطابق سب لوگوں میں مساویانہ طریق پر بانٹ دیتے ہیں۔سنو کہ یہ لوگ مجھے سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔اس شاندار تعلیم سے ظاہر ہے کہ اگر ایک طرف اسلام نے انفرادیت کو زندہ رکھنے کے لئے ذاتی مال اور ذاتی جائیداد کے اصول کو تسلیم کیا ہے تو دوسری طرف اجتماعیت کو زندہ رکھنے کے لئے غریبوں کی امداد کے انتظام کے علاوہ خاص حالات میں یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ خوراک کی استثنائی قلت کے زمانہ میں جبکہ سوسائٹی کے ایک حصہ کی ہلاکت کا خطرہ ہو، امیروں اور غریبوں کے ذخیروں کو جمع کر کے سب میں حسب ضرورت مساویانہ طریق پر تقسیم کر دو۔اور یہی وہ وسطی تعلیم ہے جس سے دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔حکومت کی خاص ذمہ داری بالآخر اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ایسے معذور لوگ جو کسی بیماری یا کمزوری یا جسمانی نقص کی وجہ سے اپنی روزی نہیں کما سکتے۔یا ان کی روزی ان کی اقل ضروریات کے لئے مکـتـفـی نہیں ہوتی۔اور ان کی یہ بے کاری اور غربت غفلت اور ستی کی وجہ سے نہیں ہے۔تو ایسے معذور لوگوں کی اقل ضروریات کا انتظام حکومت کرے۔اور اسلامی تعلیم کے مطابق اقل ضروریات میں خوراک، لباس اور مکان شامل ہیں ( دیکھو قرآن مجید سوره طه : 23-24) یہ انتظام اس لئے بھی ضروری تھا کہ قرآنی تعلیم کے مطابق مخلوق کے رزق کی آخری ذمہ داری خدا تعالیٰ پر ہے (دیکھو سورہ ہود آیت 7 ) پس جو حکومت دنیا میں خدا کی نمائندہ بنتی ہے۔اس کا فرض ہے کہ ایسے معذور لوگوں کی اقل ضروریات کی متکفل ہو جو اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود مناسب آمدنی پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔