مضامین بشیر (جلد 3) — Page 115
مضامین بشیر جلد سوم 115 درجہ حکیمانہ قانون ہے۔جس کی رو سے ہر مرنے والے مسلمان کا ترکہ صرف ایک بچہ یا صرف نرینہ اولا دیا صرف خالی اولاد کے ہاتھ میں ہی نہیں جاتا۔بلکہ سارے لڑکوں اور ساری لڑکیوں اور بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں میں بھی ایک نہایت مناسب شرح کے ساتھ تقسیم ہو جاتا ہے۔اس طرح گویا اسلام نے دولت کی دوڑ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بعض ہر ڈلز ( Hurdles) یعنی قانونی روکیں قائم کر دی ہیں۔اور ہر نسل کے خاتمہ پر ایک روک سامنے آکر دولت کے اس فرق کو کم کر دیتی ہے۔جو اس عرصہ میں پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔اسلام کے اس قانون ورثہ پر تفصیلی نظر ڈالنے سے یہ بات بالکل ظاہر و عیاں ہو جاتی ہے کہ اس قانون کے ذریعہ صرف ورثاء کو ورثہ پہنچانا ہی مدنظر نہیں ہے بلکہ ملکی اور قومی دولت کو سمونا بھی اس کی اغراض میں سے ایک اہم غرض ہے۔قانون ورثہ کے ضمن میں ہی اسلام نے ایک قانونِ وصیت بھی جاری فرمایا ہے۔جس کی رو سے ہر مسلمان کو اپنی جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ کے متعلق غیر وارثوں کے حق میں وصیت کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص کے پاس تین لاکھ روپے کا مال ہے تو وہ اس میں سے ایک لاکھ روپیہ تک کی ایسے لوگوں یا اداروں کے حق میں وصیت کر سکتا ہے جو اس کے شرعی وارث نہیں ہیں۔یہ نظام بھی ملکی دولت کو کر سمونے کا ایک مقدس ذریعہ ہے اور ہزاروں نیک دل مسلمانوں نے اس بابرکت نظام سے فائدہ اٹھا کر اپنی جائدادوں کے معقول حصے غریبوں کے لئے یا غریبوں کی امداد کرنے والے اداروں کے لئے یا جماعتی اور قومی کاموں کے لئے وقف کئے ہیں اور کر رہے ہیں۔امداد باہمی کی مؤثر مشینری اسلام کا قانون امداد باہمی بھی ملکی دولت کو سمونے کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے اور اسلام نے اس قانون کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک حصہ جبری ہے اور دوسرا حصہ طوعی اور تحریکی ہے تا کہ عقل اور جذبات دونوں کے لئے رستہ کھلا رہے۔جبری قانون زکوۃ کے نظام سے تعلق رکھتا ہے جس کے ذریعہ امیر لوگوں کی دولت پر حالات کے اختلاف کے ساتھ اڑھائی فیصدی شرح سے لے کر 20 فیصدی شرح تک خاص ٹیکس لگا کر حکومت وقت یا نظام قومی کی نگرانی میں غریبوں اور مسکینوں اور کم آمدنی والے لوگوں کی امداد کا انتظام کیا جاتا ہے۔اور یا درکھنا چاہئے کہ اس تعلق میں امیر سے مرادصرف امیر کبیر لوگ ہی نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو اپنی اقل اور فوری ضرورت سے کسی قدر زائد دولت رکھتا ہے جسے اسلام کی اصطلاح میں نصاب کہتے ہیں اس پر زکوۃ ٹیکس لگا کر کمزور لوگوں کی امداد کا راستہ کھولا جاتا ہے۔اور اس ٹیکس کو عائد کرتے