مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 111

مضامین بشیر جلد سوم 111 عہدوں کی تقسیم۔ترقی کے رستوں کا سب کے واسطے یکساں کھلا ہونا وغیرہ وغیرہ اور دوسرے وہ حقوق جو یا تو فطری قومی کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتے ہیں اور یا انفرادی جد وجہد کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً کسی شخص کا عقل وخرد میں دوسروں سے آگے ہونا یا زیادہ محنت کا عادی ہونا یا زیادہ اچھے طریق پر کاموں کو سرانجام دینا وغیرہ ایک زائد وصف ہے جو بعض لوگوں میں ہوتا ہے اور بعض میں نہیں ہوتا۔حقوق میں یہ طبعی تفاوت اتنا ظاہر وعیاں ہے کہ کوئی عقلمند انسان اس کا انکار نہیں کر سکتا۔لیکن اشتراکیت نے ان ہر دو قسم کے حقوق کو ایک ہی چیز قرار دے کر اور ایک ہی قانون کے ماتحت لا کر بالکل خلط ملط کر دیا ہے مگر اس کے مقابل پر اسلام نے حقوق انسانی کی اس فطری تقسیم کو پوری طرح ملحوظ رکھ کر ہر ایک کے مناسب حال علیحدہ علیحدہ احکام جاری فرمائے ہیں۔چنانچہ اسلام نے پہلی قسم کے حقوق میں جن کا ادا کرنا حکومت کے ذمہ ہے کامل مساوات قائم کی ہے اور کوئی امتیاز روا نہیں رکھا۔لیکن دوسری قسم کے حقوق میں جو مختلف لوگوں کے انفرادی قومی اور انفرادی کوشش سے تعلق رکھتے ہیں ایک نہایت درجہ حکیمانہ نظام کے ماتحت سمونے کی تو ضرور کوشش کی ہے لیکن جبر کے طریق پر دخل دے کر ان سارے فرقوں کو یکسر مٹانے کا ظالمانہ طریق اختیار نہیں کیا۔اور حق یہ ہے کہ ان فرقوں کو مٹایا بھی نہیں جاسکتا مثلاً دماغی قومی کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے۔قلبی اوصاف کے فرق کوکون مٹا سکتا ہے؟ جسمانی طاقتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ انفرادی جد و جہد کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ خارجی سہاروں پر نا واجب بھروسہ اشتراکیت اور سرمایہ داری ہر دو نظاموں میں یہ بھاری نقص بھی ہے کہ وہ انسان کو جد و جہد کے میدان سے نکال کر اور گویا کلیۂ خارجی سہاروں پر بٹھا کر غافل کر دینا چاہتے ہیں۔کیونکہ سرمایہ داری تو دولت مندوں کے لئے جمع شدہ خزانوں کا سہارا مہیا کر کے غفلت پیدا کرتی ہے۔اور اشتراکیت عوام کو حکومت کے کھونٹے سے باندھ کر غافل رکھنا چاہتی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر اسلام کا نظام انسان کو ہر وقت جد و جہد کے میدان میں کھڑا رکھتا ہے اور خارجی سہارے صرف اس حد تک مہیا کرتا ہے کہ وہ غفلت کا موجب نہ بنیں اور یہی صحیح فطری طریق ہے۔جس سے ایک طرف تو انسان میں انفرادی کوشش اور جد وجہد کی کیفیت زندہ رہتی ہے اور افراد کا دماغ ہوشیار اور چوکس رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔اور دوسری طرف خاص خطرہ کے اوقات میں کسی قدر خارجی سہاروں کا آسرا بھی میسر رہتا ہے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ افراد کی معیشت کے متعلق حکومت کا ہر حال میں کلی طور پر ذمہ دار