مضامین بشیر (جلد 3) — Page 106
مضامین بشیر جلد سوم 106 اشتراکیت کے نظام کا خلاصہ اشتراکیت کے نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ دولت اور دولت پیدا کرنے کے ذرائع کو افراد کی بجائے قوم اور ملک کی مشترکہ اجارہ داری قرار دے کر حکومت کے ہاتھ میں دے دیا جائے اور اس طرح مشتر کہ انتظام اور مشتر کہ سامانوں کے ذریعہ دولت پیدا کر کے اور دولت کو ترقی دے کر اسے افراد میں ان کی ضرورت کے مطابق بزعم خود مساویانہ اصول پر تقسیم کر دیا جائے۔گویا دولت تو سب مل کر اپنی طاقت کے مطابق پیدا کریں اور خرچ افراد کی ضرورت کے مطابق ( قطع نظر اس کے کہ دولت پیدا کرنے میں کس فرد کا کتنا حصہ ہے) تقسیم کر دیا جائے۔گو آجکل اشتراکیت اپنے اصول میں کسی قدر نرمی پیدا کرنے کی طرف مائل ہے مگر یہ نرمی خودان کے نظام کی کمزوری کی دلیل ہے اور بہر حال اشتراکیت کا اصولی نظر یہ وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔اس کے مقابل پر سرمایہ داری جس کے متعلق آجکل بعض لوگ جمہوریت (Democracy) کا لفظ بھی استعمال کرنے لگے ہیں وہ نظام ہے جس میں افراد کے لئے ذاتی آمد اور ذاتی جائیداد پیدا کرنے اور اس آمد اور جائیداد سے ذاتی فائدہ اٹھانے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔مگر عملاً اس نظام کو اس طرح چلایا جاتا ہے اور ذاتی جائیداد کو اس طرح بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے کہ ملک کی دولت سمٹ سمٹ کر ایک محدود اور مخصوص طبقہ کے ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے۔اور پھر اس جمع شدہ دولت کو مناسب رنگ میں سمونے اور امیر وغریب کے فریق کو کم کرنے کا بھی کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا جاتا۔سرمایہ داری کا رد عمل اشتراکیت کا نظام دراصل سرمایہ داری کے نظام کا ہی رد عمل ہے۔اور گو یا بالواسطہ طور پر اسی کا ایک غیر قدرتی بچہ ہے۔سینکڑوں سال سے دنیا کا اقتصادی نظام ایسے رستہ پر چل رہا تھا کہ قوموں اور ملکوں کی دولت سمٹ سمٹ کر ایک خاص طبقہ کے ہاتھوں میں جمع ہو گئی تھی۔اور آبادی کا بقیہ حصہ ( اور اس کی اکثریت تھی ) غربت اور افلاس اور ناداری اور بے بسی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا۔سرمایہ داری کی یہ بھیا نک صورت سب سے زیادہ روس کے ملک میں رونما ہوئی جہاں زاریوں اور ان کے درباریوں اور رئیسوں کے تعیش نے گویا غریبوں کا خون چوس رکھا تھا اور ان کی حالت جانوروں سے بھی بدتر ہورہی تھی۔کیونکہ شعور موجود تھا۔مگر اس شعور کی تسکین کا کوئی سامان نہیں تھا۔پس جس طرح ہر ظالمانہ نظام کا ایک رد عمل ہوا کرتا ہے۔جو گویا قائم شدہ نظام کے خلاف بغاوت کا رنگ رکھتا ہے۔اور ایک انتہا سے ہٹا کر دوسری انتہا کی طرف لے جاتا ہے۔اسی