مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 93 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 93

مضامین بشیر جلد سوم 93 موافق آنا صرف خدا کے علم اور خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔إِلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ نُنِيْبُ میں نے یہ بچی اس خاندان میں دی ہے جس سے رخصت ہو کر حضرت اماں جان نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَهَا ہمارے خاندان میں آئی تھیں۔میری دعا ہے کہ جس غیر معمولی رنگ میں خدا تعالیٰ نے حضرت اماں جان کا ہمارے خاندان میں آنا ان کے لئے اور ہمارے خاندان کے لئے بابرکت اور مثمر ثمرات حسنہ بنایا۔اسی طرح ہمارا آسمانی آقا میری اس بچی کا حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ والے خاندان میں جانا اس کے لئے اور اس خاندان کے لئے با برکت اور مثمر ثمرات حسنہ کرے اور اسے حسنات دارین کا موجب بنائے آمین يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ میں ان کثیر تعداد دوستوں کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس موقع پر اپنی شرکت کے ذریعہ یا تاروں اور خطوط کے ذریعہ ہماری خوشی میں حصہ لیا۔اور اپنی مخلصانہ دعاؤں سے اس عاجز اور اس عاجز کی اولاد کو نوازا۔اور بعض محبین نے اس موقع پر اخلاص و محبت کے تحائف بھی بھجوائے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے۔اور دین و دنیا کی خوشیوں سے نوازے۔آمین تحائف کا ذکر میں نے اپنی عادت اور فطری رجحان کے بالکل خلاف اس لئے کیا ہے کہ تحائف کے متعلق خدائے تبارک و تعالے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وعدہ تھا۔جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد جگہ ذکر کیا ہے اور اس پر خدا کا شکر ادا فرمایا ہے۔پس میں نے بھی اپنی فطری حیا اور حجاب کو بزور دبا کر اس جگہ اس کا ذکر کر دینا مناسب خیال کیا ہے۔تا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس متبرک ورثہ کا دامن تھام کر اپنے آسمانی آقا اور اپنے دینی بھائیوں کا شکریہ ادا کر سکوں۔وَ مَنْ لَمْ يَشْكُرُ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرُ الله وَاللهُ عَلِيمٌ بِنِيَّتِي وَ هُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُور - ( محرره 23 نومبر 1952ء) روزنامه الفضل لاہور 26 نومبر 1952ء)