مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 92 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 92

مضامین بشیر جلد سوم 92 نالائق کہتے ہیں۔پھر قائد اعظم نے ایک شخص کو وفا دار یقین کر کے اسے اپنا نمائندہ بننے کے لئے انتخاب کیا مگر آپ اسے غدار اور وطن فروش گردانتے ہیں۔یا د رکھو کہ حکومت بنانی آسان ہوتی ہیں۔لیکن قائم رکھنی مشکل اور بہت مشکل۔دنیا کی تاریخ آپ لوگوں کے سامنے ہے کہ کس طرح گزشتہ اسلامی حکومتیں افتراق و انشقاق سے تباہ ہوئیں۔پس خدارا پاکستان پر تو یہ مہلک نسخہ نہ آزماؤ کہ ابھی تو وہ صرف ایک نوزائیدہ بچہ ہے۔آگے آپ لوگوں کا اختیار ہے۔وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ روزنامه الفضل لاہور 27 جولائی 1952ء) عزیزه امۃ اللطیف ستمہا کی تقریب رخصتانہ اور احباب کی دعاؤں اور مبارکباد کا شکریہ میں نے الفضل مورخہ 6 نومبر 52ء میں اپنی سب سے چھوٹی لڑکی عزیزہ امتہ اللطیف سلمہا کی تقریب رخصتانہ کا ذکر کر کے کہ اس کا رخصتانہ 13 نومبر بروز جمعرات قرار پایا ہے۔دوستوں سے دعا کی تحریک کی تھی۔سوخدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تقریب تاریخ مقررہ پر میرے مکان ربوہ میں بعد نماز عصر حضرت خلیفۃ امسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور کثیر تعداد بزرگوں اور عزیزوں اور دوستوں کی دعاؤں کے ساتھ تکمیل کو پہنچی۔اور میں اپنے آخری بچہ کے متعلق اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ وَ نَرْجُوا مِنْ رَبِّنَا خَيْرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ - جیسا کہ میں نے اپنے سابقہ اعلان میں ذکر کیا تھا۔بچوں کی شادی ایک اندھیرے کا قدم ہوتی ہے۔جس کے انجام کا علم خدائے علیم وخبیر کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا۔والدین نیک امیدوں کے ساتھ ایک قدم اٹھاتے ہیں۔مگر اسے خیر و برکت کے ساتھ انجام تک پہنچانا اور اس کے نتائج کو بابرکت بنا نا صرف خدائے رحیم و کریم کے اختیار میں ہے۔اور اسی کے فضل ورحمت پر بھروسہ کر کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی در دبھری دعاؤں کو دہراتے ہوئے میں نے اس بچی کو اپنے گھر سے رخصت کیا ہے۔لڑکیوں کا پودا اگتا ایک باغ میں ہے مگر بالآخر نصب ہوتا اور پنپتا دوسرے باغ میں ہے اور اس نئے باغ کی زمین اور پانی اور ہوا کا