مضامین بشیر (جلد 3) — Page 83
مضامین بشیر جلد سوم 83 معمولی ترقی عطا فرمائی۔چنانچہ جیسا کہ بتایا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوشادیاں فرمائیں۔پہلی شادی 1850 ء کے قریب بڑی بیوی کے ساتھ ہوئی جو حضور کے اپنے خاندان میں سے تھیں۔پھر اس کے 35 سال بعد 1884ء میں آپ کی دوسری شادی دتی کے ایک سید خاندان میں ہوئی اور خدا تعالے نے پہلی بیوی کو بھی اولاد سے نوازا ( اللہ تعالیٰ اس نسل کو اپنے فضل و رحمت کے ہاتھ سے ممسوح فرمائے۔کیونکہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک سایہ کے نیچے جمع ہو چکی ہے۔) اور دوسری زوجہ نے يُولَدُ لَہ کے وعدہ سے حصہ پایا۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص الخاص مصلحت کے ماتحت دوسری بیوی کے متعلق مخصوص برکت کا وعدہ فرمایا تھا۔اس لئے 35 سال بعد میں آنے کے باوجود جہاں اس وقت پہلی بیوی کی نسل کی تعداد صرف 19 نفوس پر مشتمل ہے وہاں دوسری بیوی کی نسل اس کی زندگی میں ہی ایک سو گیارہ نفوس کے حیرت انگیز عد کو پہنچ گئی تھی۔وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ یہ ہمارے آسمانی آقا کی رحمت و قدرت کا ایک منہ بولتا ہوا نشان ہے جس سے کوئی اشد ترین دشمن بھی جس نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی نہ باندھ رکھی ہوا نکار نہیں کر سکتا۔خوب غور کرو کہ ایک پودا 1850ء میں نصب ہوتا ہے اور وہ مرتا نہیں بلکہ وہ بھی خدا کے فضل سے پھولتا اور پھلتا ہے۔اور پھر اس کے 35 سال بعد ایک دوسرا پودا 1884 ء میں نصب کیا جاتا ہے۔اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ خاص برکت کا وعدہ فرماتا ہے اور آج 1952ء میں جبکہ پہلے پودے پر ایک سو دو سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے اور دوسرے پودے پر صرف 67 سال کا قلیل عرصہ گزر چکا ہے۔پہلے پودے نے صرف 19 شاخیں پیدا کی ہیں۔اور دوسرا پودا ( وَلَا فَخَرَ) ایک سو گیارہ شاخوں سے لدا پھر انظر آتا ہے۔ان دونوں زمانوں کو ایک قلیل پیمانہ پر لا کر دیکھنے سے یہ نسبت 19 کے مقابل پر 169 کی بنتی ہے۔اور اگر دونوں جانب کی مشتر کہ نسل کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے۔تو پھر یہ نسبت اور بھی زیادہ ہو کر 8 کے مقابل پر 150 کی ہو جاتی ہے۔اور یہ ایک بہت بھاری بلکہ خارق عادت فرق ہے۔ہماری دلی تمنا اور دعا ہے کہ اللہ تعالے مسیح پاک کی ہر روحانی اور جسمانی شاخ کو ترقی دے اور سرسبز رکھے۔لیکن خدا کے نشانوں کو چھپایا نہیں جاسکتا اور یقین د یکھنے والوں کے لئے اس میں ایک عظیم الشان نشان ہے۔اگر وہ سمجھیں۔(محرره 7 مئی 1952ء) روزنامه الفضل لاہور 13 مئی 1952ء)