مضامین بشیر (جلد 3) — Page 82
مضامین بشیر جلد سوم 82 اماں جان کی شادی پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ اذكر نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيُجَتِى ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 308) یعنی میرے اس انعام کو یا درکھ کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا اس وحی الہی میں حضرت اماں جان کی شادی کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نعمت قرار دیا ہے جو ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔اور آپ کا نام خدیجہ رکھ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی بنیاد حضرت خدیجہ کے ذریعہ رکھی گئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل بھی اس خدیجہ ثانی کے ذریعہ قائم ہوگی۔اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیا دحمایت اسلام کی ڈالے گا۔اسی طرح میری بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام جہان کی نصرت کے لئے میرے خاندان کی بنیاد ڈالی ہے“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 275) پھر حضرت اماں جان کی شادی خانہ آبادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا اور کن زور دار الفاظ میں فرمایا کہ أذكُرُ نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكَ غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِي ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 428) میری اس نعمت کو یا درکھ جو میں نے تجھ پر کی ہے۔میں نے تیرے لئے خود اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا ایک شجر | درخت نصب کیا ہے۔اور چونکہ حضرت اماں جان حضرت مسیح موعود کے وجود کا حصہ تھیں۔اس لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا۔تَرَىٰ نَسْلاً بَعِيداً یعنی تو ایک دور کی نسل کو دیکھے گا۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 149) پس چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر حضرت اماں جان کی نسل کے متعلق عظیم الشان رحمت و قدرت کا وعدہ فرمایا گیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل کو خاص برکت سے نوازا جن کا ایک ادنی اور ظاہری پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی نسل کو تعداد کے لحاظ سے بھی غیر