مضامین بشیر (جلد 3) — Page 80
مضامین بشیر جلد سوم 80 میں انشاء اللہ فرصت ملنے اور یکسوئی میسر آنے پر سب دوستوں اور ہمدردوں کو انفرادی خطوط کے ذریعہ جواب بھیجوانے کی کوشش کروں گا۔گو جہاں تک جماعت کے دوستوں کا سوال ہے انہیں ہماری طرف سے کسی شکریہ کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ غم ان کا اور ہمارا مشتر کہ غم ہے۔حضرت اماں جان جس طرح ہماری ماں تھیں۔اسی طرح ان کی بھی ماں تھیں۔بیشک حضرت اماں جان کے ساتھ ہمارا رشتہ دُہرا تھا۔یعنی جسمانی رشتہ بھی تھا اور روحانی بھی تھا اور اس رشتہ کی گہرائی کوصرف خدا ہی جانتا ہے۔لیکن بہر حال ام المومنین (یعنی مومنوں کی ماں ) ہونے کے لحاظ سے وہ سب احمدیوں کی مشتر کہ ماں تھیں۔اس لئے اس موقع پر احمدی اصحاب کا شکریہ ادا کرنا دراصل ان کے اخلاص کی ہتک کرنا ہے۔والدہ کی وفات پر ایک بھائی دوسرے بھائی کی ہمدردی کا شکریہ ادا نہیں کرتا بلکہ مشتر کہ صدمہ میں ایک دوسرے کے قریب ہو کر ایک دوسرے کا سہارا بننے کی کوشش کرتا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اس بھاری قومی صدمہ میں ایک دوسرے سے قریب تر ہو کر اور ایک دوسرے کے لئے دعا کر کے اس بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کریں جو حضرت اماں جان کی المناک وفات نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈال دیا ہے اور اس گہرے زخم کو تازہ کر دیا ہے جو آج سے چوالیس سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے مخلصین کے دلوں کو پہنچا تھا اور اس کے ساتھ قادیان کی یاد بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ تازہ ہوکر دلوں کو بے چین کر رہی ہے۔اس با ہم مواسات کا بہترین طریق یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کر کے اور اس کے دین کی خدمت میں اپنی کوششوں کو تیز تر بنا کر اس روحانی مرہم کی تلاش کریں جو خالق فطرت نے اپنی یاد میں ودیعت کر رکھی ہے۔فَرَضِيْنَا بِاللَّهِ رَبًّا وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِأَحْمَدِ إِمَاماً وَأَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبَ - پس احمدی بھائی بہنوں کو تو اس درس وفا کے یاد دلانے کے سوا کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔البتہ میں اس موقع پر تمام ان شریف غیر احمدی اور غیر مسلم اصحاب کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس صدمہ میں ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر کے ہمارے بوجھ کو ہلکا کرنے اور ہمارے غم زدہ دلوں کو تسکین پہنچانے کی کوشش کی ہے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَ هَدَاهُمْ إِلَى صِرَاطِ الْحَقِّ وَالتَّقْوَى میں انشاء اللہ حسب توفیق عنقریب حضرت اماں جان کے مقام اور فیوض اور برکات اور اخلاق اور