مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 79

مضامین بشیر جلد سوم 79 میاں عبداللہ خان صاحب پٹھان درویش مرحوم کے مختصر حالات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت میاں عبداللہ خاں صاحب کی وفات کی خبر الفضل میں دی۔جس کے آخر پر موصوف کے اوصاف یوں بیان فرمائے۔مرحوم صحابی تھے اور ایک صحابی باپ کے بیٹے اور ایک صحابی چچا کے بھتیجے تھے اور علاقہ خوست افغانستان سے آکر قادیان میں آباد ہوئے تھے۔ملکی تقسیم کے وقت میاں عبداللہ خاں صاحب نے خدمت مرکز کے خیال سے قادیان میں درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔اور اس طرح مہاجر کے علاوہ گویا انصار بنے کا ثواب بھی پا لیا۔مرحوم بہت صابر اور مخلص اور تقویٰ اور سادگی کے رنگ میں زندگی گزارنے والے تھے۔(محررہ 26 اپریل 1952ء) (روز نامه الفضل لا ہور 29 اپریل 1952ء) 13 حضرت اماں جان تاروں اور خطوط کے جواب میں حضرت اماں جان کی وفات پر جماعت کے مخلصین کی طرف سے جن میں صحابی بھی شامل ہیں اور غیر صحابی بھی۔بچے بھی شامل ہیں اور بوڑھے بھی۔عورتیں بھی شامل ہیں اور مرد بھی۔ہمارے خاندان کے مختلف افراد کے نام بے شمار تاریں اور خطوط پہنچ چکے ہیں اور روزانہ پہنچ رہے ہیں۔یہ ہمدردی کے پیغامات نہ صرف غربی اور شرقی پاکستان کے ہر حصہ سے آرہے ہیں بلکہ قادیان اور دتی اور لکھنو اور حیدر آباد داور مالیر کوٹلہ اور مونگھیر اور کلکتہ اور بمبئی اور مدراس اور ہندوستان کے دوسرے حصوں اور بلا د عربی اور بر اعظم ایشیا اور افریقہ اور یورپ اور امریکہ کے مختلف ملکوں سے اس طرح چلے آرہے ہیں جس طرح کہ ایک قدرتی نہر اپنے طبعی بہاؤ میں چلی جاتی ہے۔اور پھر ان اصحاب میں صرف ہماری جماعت کے دوست ہی شامل نہیں بلکہ غیر مبائع اور غیر احمدی اور غیر مسلم سب طبقات کے لوگ شامل ہیں۔