مضامین بشیر (جلد 3) — Page 70
مضامین بشیر جلد سوم 70 میں سے ہیں۔جنہیں خاص مقام حاصل ہے۔لیکن یاد کا معاملہ ایسا ہے کہ ہر شخص کو غلطی لگ سکتی ہے۔اس لئے بعید نہیں کہ یا تو انہیں مغالطہ ہو گیا ہو یا ان کے خلاف رائے رکھنے والوں کو ( جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے غلطی لگ گئی ہو۔اس لئے اختلاف کے متعلق کسی فریق کو اپنی رائے پر اتنا اصرار نہیں ہونا چاہئے جو ایک قطعی اور ثابت شدہ حقیقت کے معاملہ میں ہوتا ہے۔مگر مجھے اس معاملہ میں محترمی میاں محمد اسمعیل صاحب معتبر کی رائے بہت پسند آئی ہے۔جو بیان کرتے ہیں کہ دراصل پہلی بیعت والے دن کئی دفعہ بیعت ہوئی تھی اور یہ صورت عقلاً بھی قرین قیاس ہے۔کیونکہ کچھ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے غیر معمولی صدمہ کی وجہ سے اور کچھ انتظامات کی مصروفیت کی وجہ سے کئی لوگ ادھر اُدھر پھر رہے تھے۔بعض دوست مختلف قسم کے انتظامات میں مصروف تھے۔اس لئے یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ جو دوست بیعت میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے ان میں سے بعض نے اسی دن دوسری بیعت کی خواہش کی ہوگی اور بعض نے اس کے بعد غالباً تیسری بیعت کے لئے درخواست کی ہوگی۔اور اس طرح یہ سب بیعتیں ایک ہی دن آگے پیچھے ہوئی ہوں گی۔اور غالباً یہی ہوا۔چنانچہ اس کی تائید میں میاں محمد اسمعیل صاحب معتبر نے اخبار بد کا ایک حوالہ پیش کیا ہے جس میں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ اس دن باغ میں دن بھر بیعت ہوتی رہی۔اس کے علاوہ وہ اپنا یہ مشاہدہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب پہلی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے باغ میں ہو چکی تو میں نے نماز جنازہ کے بعد دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مرزا سلطان احمد صاحب والے باغ میں بھی بیعت لے رہے تھے۔لیکن چونکہ میں اس سے پہلے حضرت مسیح موعود والے باغ میں بیعت کر چکا تھا۔اس لئے میں وہاں ٹھہر انہیں بلکہ آگے شہر کی طرف چلا گیا۔میرے خیال میں اخبار بدر کا یہ حوالہ اور معتبر صاحب کی یہ روایت اس اختلاف کے حل کرنے میں بہت اچھی مدد دیتے ہیں اور ہر دو فریق کی رائے اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے مشاہدات کے مطابق درست قرار پاتی ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔(محررہ 29 جنوری 1953ء) روزنامه الفضل لاہور 4 فروری 1953ء)