مضامین بشیر (جلد 3) — Page 52
مضامین بشیر جلد سوم 52 جرح کرنی مقصود نہیں۔بلکہ اس کی اس تشریح پر جرح کرنی مقصود ہے کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلے اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد ہر قسم کی خلافت تمہیں سال کے اندر ختم ہو گئی۔اور اب کوئی شخص آپ کی روحانی خلافت کا حقدار نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اس باطل تشریح سے نہ صرف وہ دوسری حدیث غلط قرار پاتی ہے۔جس میں ہرصدی کے سر پر مسجد دوں کی بعثت کی خبر دی گئی ہے۔بلکہ قرآن شریف پر بھی بھاری اعتراض وارد ہوتا ہے۔جس نے موسوی سلسلہ کی مماثلت میں محمد کسی سلسلہ کے متعلق بھی روحانی خلفاء کی پیشگوئی فرمائی ہے۔اور اسلام نعوذ باللہ ایک ایسا مترو کہ باغ قرار پاتا ہے جس کے آسمانی باغبان نے اس کی دیکھ بھال چھوڑ دی ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ جہاں تک نبوت کے بعد متصل طور پر آنے والی خلافت کا تعلق ہے جو نبوت کے کام کی تکمیل کے لئے گویا تنظیمی رنگ رکھتی ہے۔وہ عارضی اور میعادی ہوتی ہے اور اپنے مقدر وقت کے بعد ملوکیت کو جگہ دے کر ختم ہو جاتی ہے۔لیکن بعد کی روحانی خلافت جس کا تعلق تجدید دین یعنی بگاڑ کے زمانہ کی اصلاح سے ہے۔اس کا سلسلہ دائمی ہے۔اور جب تک کسی نبی کی نبوت کا دور چلتا ہے یہ خلافت بھی قائم رہتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ حسب ضرورت روحانی مصلحوں کی بعثت کے ذریعہ اپنے دین کو زندہ اور شاداب رکھتا اور اس کی تجدید کرتا رہتا ہے۔پس حقیقتا یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ درست اور صحیح ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔فَافُهُمْ وَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُن مِنَ الْمُمْتَرِينَ - (محرره 3 فروری 1952ء) روزنامه الفضل لاہور 14 فروری 1952ء) ہمسایہ کے ساتھ حسن سلوک عَنْ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِيْنِى بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرَتُهُ (صحیح البخاری، کتاب الأدب ، باب الوصاة بالجار ) ترجمہ:۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جبریل نے مجھے ہمسایہ کے متعلق خدا کی طرف سے بار بار اتنی تاکید کی ہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اسے وارث ہی قرار دے دے گا۔