مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 53 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 53

مضامین بشیر جلد سوم 53 33 تشریح : ہمسائے بھی انسانی سوسائٹی کا اہم حصہ ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی سخت تاکید فرمائی ہے۔حق یہ ہے کہ جو شخص اپنے ہمسایہ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا وہ دراصل انسان کہلانے کا حقدار ہی نہیں۔کیونکہ انسان ایک متمدن مخلوق ہے اور ہمسائیت تمدن کا ایک لازمی اور ضروری حصہ ہے۔پس با ہمی تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کے لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔اور اس حکم میں اس قدر تاکید کا پہلو اختیار کرتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جبریل نے مجھے اس بارے میں اس طرح تکرار اور تاکید کے ساتھ کہا کہ میں نے خیال کیا کہ شاید ہمسایہ کو وارث ہی بنا دیا جائے گا۔اس تاکیدی حکم کے پیش نظر ہر سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ محبت اور احسان کا سلوک کرے اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہو اور ان کی غیر حاضری میں ان کے بیوی بچوں کا خیال رکھے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کا اتنا خیال تھا کہ آپ چھوٹی باتوں میں بھی اس کی تاکید فرماتے تھے۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں کہ جب تم گھر میں گوشت وغیرہ پکاؤ تو شور بہ زیادہ کر دیا کرو تا تمہارا کھانا حسب ضرورت تمہارے ہمسایہ کے بھی کام آسکے۔دراصل انسان کے اخلاق کا اصل معیار اس کا وہ سلوک ہے جو وہ اپنے ہمسایہ کے ساتھ کرتا ہے۔دور کے لوگوں اور کبھی کبھار ملنے والوں کے ساتھ تو انسان تکلف کے رنگ میں وقتی اخلاق کا اظہار کر دیتا ہے۔مگر جن لوگوں کے ساتھ اس کا دن رات کا واسطہ پڑتا ہے ان کے ساتھ تکلف نہیں چل سکتا۔اور انسان کے اخلاق بہت جلد اپنی اصلی صورت میں عریاں ہو کر لوگوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔پس آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک جو اس حدیث میں درج ہے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کے علاوہ بالواسطہ طور پر خود سلوک کرنے والے کے اپنے اخلاق کی درستی کا بھی ایک عمدہ ذریعہ ہے۔کیونکہ ہمسایوں کے ساتھ وہی شخص اچھا سلوک کر سکتا ہے جس کے اخلاق حقیقتاً اچھے ہوں۔کیونکہ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لئے ایک شخص کو لازما خود اچھا بنا پڑے گا۔ورنہ شب و روز ملنے والوں کے ساتھ تکلف کا پیراہن زیادہ دیر تک چاک ہونے سے بچ نہیں سکتا۔اسی طرح اس حدیث کے وسیع معنوں کے مطابق قوموں اور ملکوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ حتی الوسع اپنی ہمسایہ قوموں اور ملکوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔اور ان کے ساتھ احسان اور تعاون کا