مضامین بشیر (جلد 3) — Page 627
627 مضامین بشیر جلد سوم انہوں نے ایک نسبتاً کمزور جماعت کو پایا اور دیکھتے ہی دیکھتے خدا کے فضل اور نصرت سے اسے ہر جہت سے ایک مثالی جماعت بنادیا۔جواب اپنی تنظیم اور اخلاص اور مالی قربانی میں پیش پیش ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے۔۔۔۔اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار داخلش گن از کمال فضل در بیت النعیم (محرره 13 جون 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 14 جون 1959ء) خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مرحوم میں لاہور میں تھا کہ مجھے عزیز شیخ مبارک احمد صاحب کی تار سے حضرت خاں صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی وفات کی اطلاع ملی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - خاں صاحب موصوف گو صحابی نہیں تھے مگر بڑی خوبیوں کے مالک اور اول درجہ کے مخلصین میں سے تھے اور تنظیم کا غیر معمولی مادہ رکھتے تھے۔چنانچہ وہ قادیان آنے سے قبل فیروز پور اور راولپنڈی کی جماعتوں میں بہت کامیاب امیر جماعت رہے۔پنشن پانے کے معا بعد انہوں نے اپنے آپ کو خدمت سلسلہ کے لئے وقف کر دیا اور پھر آخر تک یعنی جب بیماری سے بالکل مجبور ہو گئے سلسلہ کی مخلصانہ خدمت میں مصروف رہے۔شروع میں خان صاحب نے لندن میں اسلام اور احمدیت کے کامیاب مبلغ کی حیثیت میں کام کیا اور اس کے بعد واپسی پر مرکز سلسلہ میں کامیاب ناظر رہے۔اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وفات سے چند روز قبل بھی جب کہ ان کی عمر پچاسی سال سے تجاوز کر چکی تھی ان کی خواہش تھی کہ خدا مجھے صحت دے تو پھر خدمت سلسلہ کی سعادت پاؤں۔خاں صاحب مرحوم نمازوں کے بہت پابند اور دعاؤں اور وظائف میں خاص شغف رکھتے تھے۔ایسے بزرگ جماعت کے لئے بہت بابرکت وجود ہوتے ہیں۔اسی لئے نماز جنازہ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اَللَّهُمَّ لَا تَحْرِمُنَا أَجْرَهُ خان صاحب کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر بدرالدین صاحب حال بور نیو بھی نہایت مخلص اور فدائی نوجوانوں میں سے ہیں۔اسی طرح ان کے دو دوسرے صاحبزادے محبوب عالم صاحب خالد ایم۔اے اور شیخ مبارک احمد صاحب بی۔اے بھی سلسلہ کی مخلصانہ خدمت میں مصروف ہیں۔خاں صاحب