مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 623 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 623

مضامین بشیر جلد سوم 623 اور قبولیت دعا کی مختلف امکانی صورتوں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيْهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةَ رَحْمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَىٰ ثَلَاثٍ إِمَّا يُعَجَّلُ لَهُ دَعْوَتَهُ وَإِمَّا أَنْ يُدَّ خَرُ هَالَهُ فِي الْآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ مِثْلَهَا۔یعنی جب ایک مومن خدا سے کوئی دعا کرتا ہے تو ( بشر طیکہ وہ دعا کسی گناہ کی بات یا قطع رحمی پر مشتمل نہ ہو ) خدا مندرجہ ذیل تین صورتوں میں سے کسی نہ کسی صورت میں اس کی دعا ضرور قبول فرما لیتا ہے۔یعنی (1) یا تو وہ اسے اسی صورت میں اسی دنیا میں قبول کر لیتا ہے جس صورت میں کہ وہ مانگی گئی ہو۔اور (2) یا اس دُعا کو آخرت میں دعا کرنے والے کے لئے یا جس کے حق میں دعا کی گئی ہو ایک مبارک ذخیرہ کے طور پر محفوظ کر لیتا ہے اور (3) یا (اگر اسے قبول کرنا خدا کی کسی سنت یا وعدہ یا مصلحت کے خلاف ہو تو ) اس کی وجہ سے اس سے کسی ملتی جلتی تکلیف یاد کھ یا مصیبت کو دور فرما دیتا ہے۔بایں ہمہ دعا میں بڑی زبر دست طاقت ودیعت کی گئی ہے۔چنانچہ یہ دعا ہی ہے جو خدا کی تلخ تقدیروں کو روکنے کی طاقت رکھتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَا يُرَدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَا یعنی خدائی قضاء و قدر کو روکنے کے لئے دعا کے سوا اور کوئی حیلہ نہیں۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ دعا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: جو مرے سو رہے منگن یعنی حقیقی دعا گویا ایک موت ہے جس میں سے دعا کرنے والے کو گزرنا پڑتا ہے اور اپنے دل میں ایک ایسی سوز وگداز کی کیفیت پیدا کرنی پڑتی ہے جو موت کے مترادف ہے۔اور پھر اس قسم کی موت کی کیفیت بھی دراصل ایک دوسری موت کے نتیجہ میں ہی پیدا ہو سکتی ہے۔جس میں انسان کے دل میں یہ درد اور یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اگر یہ کام نہ ہوا تو میرے لئے گویا ایک موت در پیش ہوگی۔پھر دعا خود دعا کرنے والے کے لئے بھی ایک بہترین عبادت بلکہ عبادت کی جان ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ ( سنن الترندى كتاب الدعوات) یعنی دعا صرف ایک عام عبادت ہی نہیں بلکہ دعا کرنے والے کے لئے ایسی ہے جیسے کہ ایک ہڈی کے اندر کا گودا ہوتا ہے۔جس کے بغیر ایک ہڈی بے کار چیز کی طرح پھینک دی جاتی ہے۔