مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 609 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 609

مضامین بشیر جلد سوم 609 نتیجہ ہے جو حضور کی ذات کے ساتھ افراد جماعت کے دلوں میں جاگزین ہے۔جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے حضور کی یہ بیماری اسی بیماری کا دوسرا حملہ ہے جو حضور کو 1955 ء میں ہوئی تھی۔جس کے بعد حضور علاج کی غرض سے یورپ تشریف لے گئے تھے۔لیکن چونکہ موجودہ بیماری سے قبل حضور کی طبیعت سابقہ بیماری کی وجہ سے زیادہ کمزور ہو چکی تھی اس لئے موجودہ حملہ میں اس کے آثار طبعاً زیادہ محسوس کئے جا رہے ہیں۔چنانچہ ایک نفسیاتی پہلو موجودہ بیماری کا یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ بعض وہ خاص ذاتی اور جماعتی جذبات جو حضور نے اس سے قبل اپنی غیر معمولی قوت ارادی کے ساتھ دبائے ہوئے تھے وہ موجودہ بیماری کی کمزوری میں اُبھر اُبھر کر باہر آ رہے ہیں۔مثلاً آج کل حضور قادیان کا ذکر بہت فرماتے ہیں اور بعض اوقات ایسے رقت کے ساتھ یاد کرتے ہیں جیسا کہ حضور کے ضروری پیغام ، مطبوعہ الفضل مؤرخہ 20 مئی 1959ء میں بھی اس کی جھلک نظر آ رہی ہے۔یہ ایک لحاظ سے نیک فال بھی ہے اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الهام إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى الْمَعَادِ کے پورا ہونے کے وقت کو قریب لا رہا ہو۔وَمَا ذَالِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا ِباللهِ الْعَظیم۔اسی طرح حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کو بھی بہت یاد کرتے ہیں اور بار بار ذکر فرماتے ہیں۔یہ تو ایک ضمنی ذکر تھا۔میری اصل غرض اس نوٹ سے یہ ہے کہ دعا کی تحریک کی غرض سے جماعت کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بعض غیر معمولی کارناموں اور غیر معمولی دینی خدمات کی طرف توجہ دلاؤں تا کہ ان کارناموں کی یادا حباب جماعت کے دلوں میں حضور کے متعلق مزید درد پیدا کر کے دعا کی وہ کیفیت پیدا کر دے جو غیر معمولی طور پر قبولیت کی جاذب ہوا کرتی ہے۔اور بعض اوقات خدا تعالیٰ کی اہل تقدیروں کو بھی بدل دیتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اللهُ غَالِبٌ عَلی آمرہ یعنی خدا اپنی تقدیر کا غلام نہیں ہے بلکہ اگر چاہے تو اپنے فیصلوں کو بھی بدل سکتا ہے۔بیشک اس عالم اسباب میں موت ہر چھوٹے بڑے انسان کے لئے مقدر ہے۔دنیا نے صرف ایک انسان کو موت سے بچا کر آسمان پر بٹھایا تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بھی وہاں سے اتار کر قبر میں سلا دیا لیکن موت کا وقت تو بہر حال ہمارے علم کے لحاظ سے آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔کیونکہ اس کا حقیقی علم صرف خدا کو ہے اور مومنوں کی متضرعانہ دعا ئیں خدائی رحمت اس ہے اور کی کو جذب کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہیں۔پس حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا بلند مقام اور غیر معمولی دینی خدمات اس بات کی متقاضی ہیں کہ احباب جماعت حضور کی صحت اور لمبی عمر کے متعلق خاص در دوسوز کے ساتھ دعائیں کریں تا اسلام اور احمدیت کی غیر معمولی ترقی اور غلبہ کا دن قریب سے قریب تر آجائے۔