مضامین بشیر (جلد 3) — Page 605
مضامین بشیر جلد سوم 605 قید بھگت رہا ہو۔(اوائل زمانے میں ایسے Civil سول قیدی بھی ہوا کرتے تھے ) اور جب اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا کہ تلاش کرنا میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں تا قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کر سکوں کہ معذور قیدیوں کی مدد بھی کار ثواب ہے۔قرض مانگنے والوں کو فراخ دلی کے ساتھ قرض بھی دیتی تھیں۔مگر یہ ضرور دیکھ لیتی تھیں کہ قرض مانگنے والا کوئی ایسا شخص تو نہیں جو عادی طور پر قرض مانگا کرتا ہے اور پھر قرض کی رقم واپس نہیں کیا کرتا ہے۔ایسے شخص کو قرض دینے سے پر ہیز کرتی تھیں تا کہ اس کی یہ بُری عادت ترقی نہ کرے۔مگر ایسے شخص کو بھی حسب گنجائش امداد دے دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ میرے سامنے ایک عورت نے ان سے قرض مانگا اس وقت اتفاق سے حضرت اماں جان کے پاس اس قرض کی گنجائش نہیں تھی۔مجھ سے فرمانے لگیں ”میاں (وہ اپنے بچوں کو اکثر میاں کہہ کر پکارتی تھیں ) تمہارے پاس اتنی رقم ہو تو اسے قرض دے دو۔یہ عورت لین دین میں صاف ہے۔“ چنانچہ میں نے مطلوبہ رقم دے دی۔اور پھر اس غریب عورت نے عین وقت پر اپنا قرضہ واپس کر دیا۔جو آج کل کے اکثر نو جوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔مہمان نوازی بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھا۔اپنے عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بلاتی رہتی تھیں اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز پکتی تھی تو ان کے گھروں میں بھی بھجوا دیتی تھیں۔خاکسار راقم الحروف کو علیحدہ گھر ہونے کے باوجود حضرت اماں جان نے اتنی دفعہ اپنے گھر سے کھانا بھجوایا ہے کہ اس کا شمار ناممکن ہے اور اگر کوئی عزیز یا کوئی دوسری خاتون کھانے کے وقت حضرت اماں جان کے گھر میں جاتی تھیں تو حضرت اماں جان کا اصرار ہوتا تھا کہ کھانا کھا کر واپس جاؤ۔چنانچہ اکثر اوقات زبر دستی روک لیتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مہمان نوازی ان کی روح کی غذا ہے۔عیدوں کے دن حضرت اماں جان کا دستور تھا کہ اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر کھانا پکوانے اور کھانا کھلانے کی بذات خود نگرانی فرماتی تھیں اور اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ فلاں عزیز کو کیا چیز مرغوب ہے اور اس صورت میں حتی الوسع وہ چیز ضرور پکواتی تھیں۔جب آخری دنوں میں زیادہ کمزور ہو گئے تو مجھے ایک دن حسرت کے ساتھ فرمایا کہ اب مجھ میں ایسے اہتمام کی طاقت نہیں رہی۔میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھ سے رقم لے لے اور کھانے کا انتظام کر دے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل جب کہ حضرت اماں جان بے حد کمزور ہو چکی تھیں اور کافی بیمار تھیں مجھے ہماری بڑی ممانی صاحبہ نے جو ان دنوں میں حضرت اماں جان کے پاس ان کی عیادت کے لئے ٹھہری ہوئی تھیں فرمایا کہ آج آپ یہاں روزہ کھولیں۔میں نے