مضامین بشیر (جلد 3) — Page 602
مضامین بشیر جلد سوم 602 وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الانفال: 47) یعنی اے مومنو! خدا کی رسی ( یعنی اپنے امام کے دامن اور جماعت کے اتحاد ) کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے دو اور خدا کی اس نعمت کو یا دکر و کہ تم کس طرح ایمان لانے سے پہلے آپس میں دشمن تھے مگر خدا نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کر دی اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔۔۔پس اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے لگنے کی بجائے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنا مسلک بناؤ اور ہرگز آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ورنہ یا درکھو کہ تمہارا قدم پھسل جائے گا اور تمہارے اتحاد کی روح ضائع ہو جائے گی اور تمہارا رعب مٹ جائے گا۔کیا جماعت کے مخلصین خدا کی اس آواز پر لبیک کہیں گے؟ وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 30 مارچ 1959 ء) (روز نامہ الفضل ربوہ 5 اپریل 1959ء) 14 حضرت اماں جان تو راللہ مرقدها بلند اخلاق ، بلند اقبال اور بلند مقام تو شکل یہ مضمون اس جلسہ میں سنایا گیا جو مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گولبازار ربوہ کے زیر اہتمام مؤرخہ 20 اپریل کو سیدہ اماں جان نور اللہ مرقدھا کے موضوع پر منعقد ہوا۔ادارہ) حضرت اماں جان کی وفات کو آج پورے سات سال کا عرصہ گزرتا ہے۔اس عرصہ میں خاکسار نے کئی دفعہ ان کی سیرت کے متعلق کچھ لکھنے کی کوشش کی مگر ہر دفعہ جذبات سے مغلوب ہو کر اس ارادہ کو ترک کرنا پڑا۔لیکن آج خدام الاحمدیہ گول بازار ربوہ کے احباب کی تحریک پر ذیل کی چند مختصر سطور لکھنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔وَاللَّهُ الْمُؤفِّقُ وَهُوَ الْمُسْتَعَانَ۔حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کی بلند سیرت اور بلند اقبال کے متعلق غالبا سب سے زیادہ مختصر کلام وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا یعنی: