مضامین بشیر (جلد 3) — Page 515
مضامین بشیر جلد سوم 515 کل تاش کے کھیل میں جوابازی یا گھوڑ دوڑ وغیرہ میں جوئے کی شرطیں لگا نا عام ہورہا ہے۔(6) بے پردگی کا مرض بھی آج کل کے مسلمانوں میں عام ہے۔اور خصوصاً پاکستان بننے کے بعد یہ کمزوری بہت بڑھ گئی ہے اور فیشن کی اتباع میں اپنی بیویوں کو بے پردکر کے مردوں کی مجلسوں میں لانے اور بے حجابانہ کھلے پھر انے اور قرآنی ارشاد لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ (النور: 32) کو پس پشت ڈالنے کا مرض وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ عورتیں گھروں میں قیدر ہیں یا یہ کہ وہ تعلیم نہ پائیں ، یا یہ کہ وہ قومی زندگی میں حصہ نہ لیں۔بلکہ وہ اس معاملہ میں صرف بعض دانشمندانہ حد بندیاں لگاتا ہے۔جو مردوں اور عورتوں دونوں کے اخلاق کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں۔پس ہمارے احمدی نوجوانوں کو عیسائیوں کی اندھی تقلید اور دوسرے مسلمانوں کی نقالی سے بچتے ہوئے اس معاملہ میں بہت محتاط رہنا چاہیئے۔اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمان عورتیں مسنون پر دہ بھی کرتی تھیں اور قومی زندگی میں حصہ بھی لیتی تھیں۔اور بعض عورتوں نے بڑی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔میں احمدیت کی غیور بیٹیوں سے بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ اس معاملہ میں اپنے خاوند اور باپوں پر اچھا اثر ڈالیں گی۔(7) اسلام بے شک انسان کی ذاتی اور خاندانی اور قومی ضرورتوں کے ماتحت تعدد ازدواج کی اجازت دیتا ہے۔مگر ساتھ ہی سخت تاکید فرماتا ہے کہ جو شخص دوسری شادی کرے اس کے لئے ضروری ہے کہ پورے پورے عدل وانصاف سے کام لے اور سب بیویوں کے درمیان اپنے وقت اور اپنے مال اور اپنی ظاہری توجہ کو اس طرح بانٹے کہ انصاف کا ترازو بالکل برابر رہے۔مگر آج کل بعض لوگ دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گالمُعلَّقہ یعنی انکا ہوا چھوڑ دیتے ہیں۔جو نہ تو صحیح معنوں میں خاوند کی بیوی سمجھی جاسکتی ہے اور نہ وہ اپنے لئے کوئی اور رستہ اختیار کرنے کے لئے آزاد ہوتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایسے لوگ حشر کے میدان میں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کا نصف دھڑ مفلوج ہوگا۔(8) ماں باپ کی خدمت میں غفلت برتنا بھی اس زمانہ کی ایک عام کمزوری ہے۔خصوصاً شادی کے بعد کئی نو جوان اپنے والدین کی خدمت بلکہ ان کے واجبی ادب تک میں کمزوری دکھانے لگتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے شرک کے بعد عقوق الوالدین کو دوسرے نمبر کا گناہ قرار دیا ہے۔قرآن مجید نے کیا عجیب دعا سکھائی ہے کہ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل: 25) یعنی اے خدا تو میرے ماں باپ پر اسی طرح رحم فرما جس طرح کہ انہوں نے میرے بچپن میں مجھے رحم اور شفقت کے ساتھ پالا۔اس دعا میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ جس طرح تمہارے ماں باپ نے تمہیں تمہاری