مضامین بشیر (جلد 3) — Page 459
مضامین بشیر جلد سوم 459 بوڑھا سمجھا جائے گا اور اس کے مقابل پر ایک عمر رسیدہ شخص جو ضعف پیری کے باوجود اپنی قوت عمل اور امنگ اور ہمت کے لحاظ سے جوان ہے تو اسے بوڑھا ہونے کے باوجود نوجوان خیال کیا جائے گا۔اس صورت میں ایسے نو جوانوں کی حالت کس قدر افسوس کے قابل ہوگی جو نو جوان ہوتے ہوئے بھی عملاً بوڑھوں کی صف میں کھڑے ہوں۔کاش ہماری جماعت کے بوڑھے جوان بنیں اور جماعت کے جوان اپنی اُٹھتی ہوئی امنگوں کے ساتھ اپنے اندر نو جوانوں والا گرم خون پیدا کریں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔28 ملک عبدالرحمن صاحب خادم (ماہنامہ خالد ستمبر، اکتوبر 1957ء) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی علالت پر الفضل میں دعا کی تحریک کی جس میں آپ کے اوصاف کا ذکر یوں فرمایا۔ملک صاحب موصوف اسلام اور احمدیت کے ایک مجاہد سپاہی ہیں اور بچپن کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک خدمت دین میں مصروف رہے ہیں اور ان کے مناظرات خدا کے فضل سے ہمیشہ بہت کامیاب ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ ان کی کتاب احمدیہ پاکٹ بک ایک بہت عمدہ تبلیغی خزانہ ہے۔اور حال ہی میں خلافت حقہ کی تائید میں ان کی طرف سے جو مضامین نکلے ہیں وہ بھی بہت قابل قدر ہیں۔اسی طرح انکوائری کمیشن (Inquiry Commission) کے ایام میں بھی خادم صاحب نے قابلِ تعریف خدمت انجام دی تھی۔( محرره 16اکتوبر 1957 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 18اکتوبر 1957ء) قافلہ کی اجازت نہیں ملی بڑے افسوس کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ جیسا کہ پہلے سے خدشہ محسوس ہو رہا تھا اس سال حکومتِ ہندوستان نے قافلہ کی اجازت نہیں دی۔اور زیادہ قابل افسوس امر یہ ہے کہ شاذ و نادر کے علاوہ پرائیویٹ