مضامین بشیر (جلد 3) — Page 456
مضامین بشیر جلد سوم میں بھجواتے ہوئے ان کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔456 حضرت بھائی صاحب مرحوم کو بہت سی خصوصیات حاصل تھیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھ مذہب سے نکال کر اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔دوسرے یہ کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شناخت کرنے اور احمدیت قبول کرنے کی سعادت بھی پائی۔تیسرے یہ کہ نہ صرف اسلام اور احمدیت کو قبول کیا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی لمبی صحبت کا موقع میسر آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب نصیب ہوا۔چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم اور عمل کی نعمت سے بھی نوازا اور ان کے ذریعہ بہت سے نوجوانوں نے دینی علم حاصل کرنے اور تقویٰ پر قائم ہونے کی سعادت پائی۔پانچویں یہ کہ حضرت بھائی صاحب صاحب الهام و کشوف بھی تھے اور دعا کی تحریک پر ان پر عموماً اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت جلد انکشاف ہو جایا کرتا تھا۔پھر یہ کہ خلافت ثانیہ کا بھی لمبا دور پایا اور بالآخر قادیان میں کئی سال تک درویشی کی زندگی بھی نصیب ہوئی۔اور آخر میں اللہ تعالیٰ انہیں وفات کے قریب ربوہ لے آیا۔اور ایسا اتفاق ہوا کہ جنازہ کے وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ربوہ میں موجود تھے۔اور حضور نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔اور حضرت بھائی صاحب مقبرہ بہشتی کے قطعہ خاص میں دفن کئے گئے۔یہ سب خصوصیات غیر معمولی رنگ رکھتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی مشفقانہ نعمت اور خاص ذرہ نوازی کی دلیل ہیں کہ سکھ مذہب سے نکال کر کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا۔این سعادت بزور بازد نیست خشد خدائے بخشنده حضرت بھائی صاحب مرحوم 1894ء میں مسلمان ہو کر قادیان آئے تھے اور اس وقت ان کی عمر غالباً 21 سال کی تھی۔جب خدا تعالیٰ نے دل میں اسلام کی چنگاری پیدا کی تو فوجی ملازمت چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں پہنچ گئے اور حضرت خلیفۃ اصیح الاول نے انہیں اپنی شاگردی سے نوازا۔گزشتہ ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی اور سلسلہ عالیہ احمد یہ کے خاص کارکن بڑی سرعت کے ساتھ فوت ہوئے ہیں۔اس کے نتیجہ میں طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی جگہ لینے کے لئے احمدیت کا نوجوان طبقہ آگے آنے کے لئے کیا کوشش کر رہا ہے اور ترقی کرنے والی قوموں کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ صف اول کے ساتھ ساتھ صف دوم کا بھی انتظام رکھا کرتی ہیں۔تا کہ صف اول کے