مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 345 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 345

مضامین بشیر جلد سوم 345 عبدالسلام صاحب کو ڈانٹا کہ یہ الفاظ مت کہو۔مولوی عبدالحی صاحب مرحوم کے یہ الفاظ کسی طرح حضرت خلیفہ اول کے کانوں تک پہنچ گئے۔اور حضور نے اسی وقت مولوی عبدالحی صاحب کو بلا کر فر مایا کہ تم عبد السلام کو ان الفاظ کے کہنے سے کیوں روکتے ہو ؟ اور ساتھ ہی مولوی عبدالسلام صاحب کو تاکیداً فرمایا کہ " عبد السلام ! ہم لوگ واقعی حضرت مسیح موعود کے نوکر ہیں۔تم میرے سامنے اپنے منہ سے کہو کہ ” میں آپ کا نوکر ہوں چنانچہ مولوی عبدالسلام صاحب کے منہ سے الفاظ کہلانے کے بعد آپ وہاں سے گئے۔بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر اس سے محبت کے اس اتھاہ سمندر پر کتنی روشنی پڑتی ہے جو اس مرد خدا اور مرد مومن حضرت خلیفہ اول کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان کے لئے موجزن تھا۔ہمشیرہ مبارکہ بیگم کے لئے یا ہمارے لئے مولوی عبدالسلام صاحب عمر یا کسی اور مخلص کا اس قسم کے الفاظ کہنا ہر گز کسی فخر کی بات نہیں (ممکن ہے بلکہ ذاتی لحاظ سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اغلب ہے کہ خدا کی نظر میں ان کے اعمال ہم میں سے بعض کے اعمال سے بہتر ہوں ) مگر یقیناً ہمارے لئے نمونہ ساری جماعت کے لئے حضرت خلیفہ اول اور دیگر مخلصین کی وہ محبت موجب صد فخر ہے جو ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان کے لئے تھی اور ہے۔یہ محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عظیم الشان معجزہ ہے جس کی قدر و قیمت دنیا و مافیھا سے بڑھ کر ہے۔اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا ہے: لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا الفُتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمُ (الانفال : 64) میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دور کر کے ہمیں اس مقدس محبت کا اہل بنائے اور ہمیں جماعت کے لئے ہر رنگ میں اچھا نمونہ بنے کی توفیق دے۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ دعا کی غرض سے اس جگہ اس بات کا ذکر بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ جب جودھامل بلڈنگ لاہور میں یہ خاکسار مولوی عبدالسلام صاحب عمر کا جنازہ پڑھانے لگا تو ابھی میں نے پہلی تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور میں نے دیکھا کہ میری دائیں جانب سے حضرت خلیفہ اول تشریف لائے ہیں۔اس وقت آپ کا قد اپنے اصل قد سے کافی لمبا نظر آتا تھا۔اس نظارہ کے بعد یہ حالت جاتی رہی۔میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے حضرت خلیفہ اول کی روح کو جنت الفردوس میں تسکین عطا کرے اور عزیزم مولوی عبد السلام صاحب مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے اہل و عیال اور حضرت خلیفہ اول کی دیگر اولاد کادین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔امین