مضامین بشیر (جلد 3) — Page 270
مضامین بشیر جلد سوم 270 معافیوں کا اعلان کیا کرتے ہیں۔اسی طرح خدا کی بخشش بھی لیلۃ القدر کی گھڑیوں میں خاص جوش کی حالت میں ہوتی ہے۔پس اس موقع پر اس سے اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگنی چاہئے۔مگر ظاہر ہے کہ معافی خواہ اپنی ذات میں کتنی بڑی چیز ہو بہر حال وہ ایک منفی قسم کی نعمت ہے اور ایسا شخص ہرگز دانشمند نہیں سمجھا جا سکتا جو اس قسم کے رحمتِ عامہ کے موقع پر صرف منفی قسم کی نعمت کی درخواست پر قناعت کرتا ہے۔ایسا وقت تو خدا سے لپٹ لپٹ کر ہر نعمت کے مانگنے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ صرف معافی مانگنے کا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں عموماً اور اگر کسی کو لیلتہ القدر نصیب ہو تو اس میں خصوصاً خدا سے ہر نعمت کے طالب ہوں۔وہ خدا سے اسلام اور احمدیت کی ترقی مانگیں۔وہ رسول پاک (صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں اور اس قدر درود بھیجیں کہ ان کی زبان اس کے ذکر سے تر ہو جائے۔وہ رسول پاک کے خادم اور ظلتِ کامل حضرت مسیح موعود کے مقاصد کی ترقی کے لئے دعائیں کریں۔وہ خلیفہ وقت کی صحت کاملہ و عاجلہ اور آپ کی قیادت میں اسلام کی فتح کے لئے خدا کے سامنے گڑ گڑا ئیں۔وہ پاکستان کی مضبوطی اور بہبودی کے لئے دست بدعار ہیں۔وہ جماعت اور مرکز جماعت کی حفاظت اور مضبوطی کے طالب ہوں۔وہ سلسلہ کے مبلغین اور معلمین اور دیگر کارکنوں کے لئے الہی نصرت اور خیر و برکت مانگیں اور پھر وہ اپنے لئے اور اپنے اہل وعیال کے لئے اور اپنے خاندان کے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے اور اپنے ہمسایوں کے لئے بھی دعائیں کریں۔یاد رکھو کہ دعا میں بڑی برکت اور بڑی طاقت ہے اور بدقسمت ہے وہ انسان جو اس عظیم الشان دینی خزانہ کی وسعت اور اس روحانی ایٹم بم کی طاقت سے بے خبر ہے۔دعا وہ آفتاب عالم تاب ہے جس کا نور خدا کے وجود سے پھوٹتا اور دنیا بھر کے مومنوں کے دلوں کو منور کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ سے اے کہ گوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب (محرره 9 مئی 1955 ء) روزنامه الفضل 12 مئی 1955ء)